حیدرآباد ۔ 16 ۔ اکٹوبر : ( سیاست نیوز ) : قائد اپوزیشن مسٹر کے جانا ریڈی نے ہدہد طوفان سے آندھرا پردیش میں بڑے پیمانے پر جانی مالی نقصانات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تلنگانہ کی نمائندگی کرنے والے کانگریس کے ارکان اسمبلی اپنے ایک ماہ کی تنخواہ آندھرا پردیش کو عطیہ دیں گے ۔ آج یہاں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر کے جانا ریڈی نے کہا کہ آندھرا پردیش طوفان سے بہت زیادہ متاثر ہوا ہے ۔ مرکز کو بڑے پیمانے پر آندھرا پردیش کی مدد کرنے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کی تقسیم سے صرف سرحدیں تقسیم ہوئی ہیں تلگو عوام آج بھی ایک ہے اور مستقبل میں بھی ایک رہیں گے ۔ تلگو عوام کے مصیبت کے وقت ہم ان کے ساتھ مکمل تعاون کریں گے ۔ تلنگانہ کی نمائندگی کرنے والے تمام ارکان اسمبلی نے اپنی ایک ماہ کی تنخواہ دینے سے اتفاق کیا ہے ۔ انہوں نے تلنگانہ میں برقی بحران کے لیے ٹی آر ایس حکومت کی غفلت اور لاپرواہی کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے اعلیٰ عہدیداروں کا اجلاس طلب کرتے ہوئے برقی بحران سے نمٹنے کے لیے منصوبہ بندی تیار کرنے میں پوری طرح ناکام ہوگئے ۔ جس کی وجہ سے تلنگانہ ریاست تاریکی میں ڈوب چکی ہے ۔ برقی بحران سے تمام شعبہ جات پر اس کا بہت برا اثر پڑا ہے ۔ کسان خود کشی کررہے ہیں حکومت اسمبلی کا بجٹ اجلاس طلب کرنے میں ناکام ہوگئی ہے ۔ کم از کم ان مسائل کا جائزہ لینے کے لیے خصوصی اجلاس طلب کیا جائے ۔ کانگریس پارٹی اپوزیشن کا تعمیری رول ادا کرے گی ۔ اچھے کاموں پر حکومت کی ضرور ستائش کرے گی ۔ عوامی مسائل پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی بلکہ عوام کے ساتھ مل کر جمہوری انداز میں احتجاج کرتے ہوئے حکومت پر دباؤ بنانے کے معاملے میں کوئی گریز نہیں کرے گی ۔ حکومت اپنی ذمہ داری کو بخوبی نبھائے عوام نے ٹی آر ایس پر جو بھروسہ جتایا ہے اس پر کھرا اترنے کی ہر ممکن کوشش کریں ۔۔