کسی ایک پارٹی کی تائید کا امکان نہیں ، سیاسی جماعتوں کے ردعمل پر فیصلہ ممکن
حیدرآباد۔/17اپریل، ( سیاست نیوز) تلنگانہ پولٹیکل جوائنٹ ایکشن کمیٹی کل 18اپریل کو انتخابی حکمت عملی کا اعلان کرے گی۔ جے اے سی کی جانب سے انتخابات میں کسی ایک پارٹی کی تائید کا امکان نہیں ہے کیونکہ جے اے سی میں تلنگانہ کی تائید کرنے والی مختلف جماعتیں شامل ہیں۔ جے اے سی نے انتخابی لائحہ عمل اور تائید کے بارے میں تجاویز پیش کرنے ایک کمیٹی تشکیل دی جس کا اجلاس جمعہ کی صبح منعقد ہوگا۔ اس کمیٹی میں دیوی پرساد، سی وٹھل، ملے پلی لکشمیا، حامد محمد خاں اور کے رگھو شامل ہیں۔ تلنگانہ کی موجودہ سیاسی صورتحال اور جے اے سی کی جانب سے پیش کردہ انتخابی منشور کے بارے میں سیاسی جماعتوں کے رد عمل کو دیکھتے ہوئے سیاسی فیصلہ کیا جائے گا۔ یہ کمیٹی سہ پہر منعقد ہونے والے اسٹیرنگ کمیٹی اجلاس میں اپنی تجاویز پیش کرے گی اور قطعی فیصلہ اسٹیرنگ کمیٹی کا ہوگا۔ جے اے سی کے ذرائع نے بتایا کہ کسی ایک پارٹی کی تائید کے مسئلہ پر قائدین میں اختلاف رائے پایا جاتا ہے۔ جے اے سی کے کئی قائدین ٹی آر ایس، کانگریس اور بی جے پی کے ٹکٹ پر انتخابی میدان میں ہیں۔ ان حالات میں جے اے سی کیلئے کسی ایک پارٹی کی تائید کرنا ممکن نہیں۔ ٹی آر ایس کے حامی قائدین کا اصرار ہے کہ جے اے سی انتخابات میں ٹی آر ایس کی تائید کا اعلان کردے کیونکہ تلنگانہ کی تعمیر نو میں وہ اہم رول ادا کرچکی ہے۔ ان قائدین کا کہنا ہے کہ ٹی آر ایس نے تلنگانہ جدوجہد کی قیادت کی اور وہ علاقہ کے مسائل سے اچھی طرح واقف ہے لہذا اسے اقتدار کا موقع ملنا چاہیئے۔ قومی جماعتوں کے مقابلہ علاقائی جماعتیں تلنگانہ کی ترقی میں اہم رول ادا کرسکتی ہیں۔ کانگریس اور بی جے پی کے حامی جے اے سی قائدین نے اس استدلال کی شدت سے مخالفت کی۔ ان کا کہنا ہے کہ جے اے سی کو غیرجانبدار رہتے ہوئے تمام موافق تلنگانہ جماعتوں کی تائید کا اعلان کرنا چاہیئے۔ تائید کے مسئلہ پر جاری اس کشمکش نے جے اے سی کے صدر نشین پروفیسر کودنڈا رام کو اُلجھن میں مبتلاء کردیا ہے۔ وہ کسی ایک پارٹی کی تائید کے ذریعہ دیگر کی مخالفت مول لینا نہیں چاہتے۔ جے اے سی نے تلگودیشم اور وائی ایس آر کانگریس کے سوا دیگر جماعتوں کی تائید کے حق میں اعلان کا من بنالیا ہے۔ جے اے سی جس نے تلنگانہ تحریک میں اہم رول ادا کیا وہ سی پی آئی کی بھی تائید کرے گی جو کہ جے اے سی کا حصہ رہی۔ جے اے سی نے تلنگانہ کے مسائل پر مبنی جو عوامی ایجنڈہ سیاسی جماعتوں کے حوالے کیا کانگریس اور ٹی آر ایس نے اس کی مکمل تائید کی ہے۔ اسی دوران جے اے سی نے حامد محمد خاں اور کے رگھو کو ترجمان کے طور پر نامزد کیا ہے۔