تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کے اجلاس میں افراتفری

قائدین میں بحث و تکرار، صدر پنالہ لکشمیا کو برقرار رکھنے پر زور، مختلف امور کا جائزہ
حیدرآباد /17 جولائی (سیاست نیوز) کانگریس کے چند قائدین نے پنالہ لکشمیا کو پردیش کانگریس کی صدارت پر برقرارکھنے کا مطالبہ کیا اور چند قائدین نے اس کی مخالفت کی۔ واضح رہے کہ صدر پردیش کانگریس پنالہ لکشمیا نے آج گاندھی بھون میں سکریٹریز اور جوائنٹ سکریٹریز کا اجلاس طلب کرتے ہوئے پارٹی کی شکست کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر کارگزار صدر تلنگانہ پردیش کانگریس اتم کمار ریڈی، سابق ریاستی وزیر محمد فرید الدین اور دیگر قائدین بھی موجود تھے۔ سکریٹریز کی فہرست سے اپنا نام غائب ہونے پر پارٹی کے سینئر قائد بالا پوچیا نے ہنگامہ کھڑا کردیا اور قیادت پر الزام عائد کیا کہ پارٹی کے وفاداروں اور سینئر قائدین کا احترام باقی نہیں رہا، جب کہ دیگر پارٹیوں سے کانگریس میں شامل ہونے والوں کو اہمیت دی جا رہی ہے۔ دریں اثناء پنالہ لکشمیا نے مداخلت کرتے ہوئے مسٹر پوچیا کو سمجھانے کی کوشش کی اور فہرست سے نام غائب ہونے کے تعلق سے لاعلمی ظاہر کی۔ اجلاس کے دوران قائدین میں بحث و تکرار ہو گئی، جس پر خاتون قائدین بالخصوص خاتون ارکان اسمبلی خود کو غیر محفوظ تصور کرتے ہوئے اجلاس سے روانہ ہو گئیں۔ دریں اثناء کانگریس کے سینئر قائد و سکریٹری پردیش کانگریس سید یوسف ہاشمی نے کہا کہ پارٹی میں مسلمانوں کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے۔ 2014ء کے عام انتخابات میں مسلمانوں کو ٹکٹ نہیں دیا گیا اور جب استفسار کیا گیا تو کہا گیا کہ مسلمان مقابلے میں جیت نہیں سکیں گے، لہذا انھیں بورڈ اور کارپوریشن کے نامزد عہدے دیئے جائیں گے۔ انھوں نے استفسار کیا کہ تلنگانہ کے 119 اسمبلی حلقہ جات میں ٹکٹ حاصل کرنے والے کتنے ریڈی، کما اور کاپو طبقات کے قائدین کامیاب ہوئے؟۔ انھوں نے کہا کہ 2004ء میں کامیابی کے بعد اردو اکیڈمی، وقف بورڈ اور حج کمیٹی جیسے عہدے غیر کانگریسیوں کے حوالے کئے گئے، جب کہ اقلیتیں اور پسماندہ طبقات نے کانگریس کو اقتدار تک پہنچانے میں اہم رول ادا کیا تھا، تاہم اقتدار حاصل ہوتے ہی انھیں نظرانداز کردیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ چیف منسٹر بننے کی خواہش میں اہم قائدین نے پارٹی کو نظرانداز کردیا تھا، جس کے نتیجے میں عوام نے کانگریس کو نظرانداز کردیا۔ انھوں نے کہا کہ اقتدار حاصل ہونے کے دوران پارٹی قائدین اور کارکنوں کو اہمیت نہیں دی گئی، لہذا کم از کم تنظیمی سطح پر پارٹی کارکنوں سے انصاف کیا جائے۔ اسی دوران پردیش کانگریس کے ترجمان ایس کے افضل الدین نے کہا کہ کانگریس کے لئے جیت ہار کوئی معنی نہیں رکھتی، کانگریس کو عوام کے فیصلے کا احترام کرنا چاہئے اور عوامی مسائل پر جدوجہد سے کانگریس کا اعتماد دوبارہ بحال ہوسکتا ہے۔ سکریٹری پردیش کانگریس ایم اے انصاری نے کہا کہ پارٹی میں پہلے پارٹی قائدین کو اہمیت دی جانی چاہئے۔ محمد جاوید نے بھی پارٹی کو مستحکم کرنے کی تجاویز پیش کیں۔ سکریٹری پردیش کانگریس ٹی نرنجن نے کہا کہ صدر کانگریس سونیا گاندھی کو گمراہ کرکے تلنگانہ ریاست حاصل کرنے والے قائدین نے پارٹی کو کامیاب بنانے سے زیادہ خود چیف منسٹر بننے کے چکر میں پارٹی کو شکست سے دوچار کیا، جب کہ ڈپٹی چیف منسٹر دامودھر راج نرسمہا اور سابق وزیر ڈاکٹر گیتا ریڈی نے کبھی پارٹی قائدین و کارکنوں کو اہمیت نہیں دی۔ پارٹی کے نام پر دس سال تک وزارت پر فائز رہنے والے قائدین نے کروڑہا روپئے جمع کئے، مگر پارٹی کیلئے کچھ بھی نہیں خرچ کیا۔ انھوں نے کہا کہ وزارت اور دیگر اہم عہدوں پر فائز رہنے والے قائدین اب شکست کے بعد پردیش کانگریس کے عہدوں پر نظریں جمائے ہوئے ہیں، مگر ایسے قائدین کو عہدہ ہرگز نہیں دینا چاہئے۔ انھوں نے کہاکہ اگر دامودھر راج نرسمہا گاندھی بھون پہنچتے ہیں تو ان کا چپل کے ہاروں سے خیرمقدم کیا جائے گا۔