تلنگانہ پبلک سرویس کمیشن کی تشکیل کے لیے گورنر کی منظوری

حیدرآباد۔ 26 ۔ نومبر (سیاست نیوز) حکومت نے تلنگانہ پبلک سرویس کمیشن کی تشکیل کی تیاریوں میں تیزی پیدا کردی ہے۔ ٹی آر ایس حکومت نے تلنگانہ کیلئے علحدہ پبلک سرویس کمیشن کے قیام کا فیصلہ کیا جسے گورنر نے منظوری دیدی ہے۔ تلنگانہ میں مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات کا عمل شروع کرنے کیلئے حکومت پبلک سرویس کمیشن کی عاجلانہ تشکیل کا منصوبہ رکھتی ہے۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ نے صدرنشین اور ارکان کے ناموں کے سلسلہ میں پارٹی قائدین اور حکومت کے مشیروں سے مشاورت کا آغاز کردیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر نے صدرنشین اور ارکان کے ناموں کی عبوری فہرست کو قطعیت دیدی ہے ۔ تاہم لمحہ آخر میں اس میں بعض تبدیلیوں کا امکان ہے۔ صدرنشین اور ارکان کے ناموں کی فہرست گورنر کو روانہ کی جائے گی اور ان کی منظوری کے بعد علحدہ پبلک سرویس کمیشن باقاعدہ کارکردگی کا آغاز کردے گا۔ اسی دوران پبلک سرویس کمیشن کے رکن کے عہدہ کیلئے کئی افراد پیروی میں سرگرم دکھائی دے رہے ہیں۔ چیف منسٹر کیمپ آفس اور سکریٹریٹ پر پبلک سرویس کمیشن میں شمولیت کے خواہشمندوں کا تانتا بندھا ہوا ہے۔ ان میں ٹی آر ایس سے تعلق رکھنے والے قائدین کے علاوہ اساتذہ تنظیموں کے نمائندے اور سابق پروفیسرس بھی شامل ہیں۔ علحدہ تلنگانہ ایجوکیشن میں ملازمین کی جانب سے نمائندگی کرنے والے قائدین بھی پبلک سرویس کمیشن کی رکنیت کیلئے کوشاں ہیں۔

ان میں سی وٹھل کا نام سرفہرست بتایا جاتا ہے۔ مسلم کوٹہ میں آندھراپردیش پبلک سرویس کمیشن کے رکن کی حیثیت سے خدمات انجام دینے والے ریٹائرڈ آئی اے ایس عہدیدار محمد علی رفعت اور تلنگانہ یونیورسٹی سابق وائس چانسلر اکبر علی خاں کا نام بھی زیر غور بتایا جاتا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ چیف منسٹر چاہتے ہیں کہ اے پی پبلک سرویس کمیشن کے رکن ریٹائرڈ آئی اے ایس عہدیدار کو تلنگانہ کمیشن میں شامل کیا جائے۔ ان کے لئے پارٹی کے بعض سرکردہ قائدین چیف منسٹر کے پاس سفارش کر رہے ہیں۔ تلنگانہ یونیورسٹی میں مختلف مبینہ بے قاعدگیوں کی تحقیقات کے پیش نظر پروفیسر اکبر علی خاں کے نام کی شمولیت ممکن نہیں۔ چیف منسٹر کے قریبی ذرائع نے بتایا کہ پبلک سرویس کمیشن کی تشکیل کے اندرون 6 ماہ حکومت بڑے پیمانہ پر مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات کا منصوبہ رکھتی ہے۔ مرکز کی جانب سے آل انڈیا سرویسز عہدیداروں کی تقسیم میں تاخیر کے سبب پبلک سرویس کمیشن کی تشکیل میں بھی دشواری ہوئی ہے۔ حکومت تلنگانہ میں موجود تمام یونیورسٹیز کے نئے وائس چانسلرس کے انتخاب کیلئے جلد ہی سرچ کمیٹی تشکیل دے گی۔