مسائل ، سیاسی امور پر حکومتوں میں دوریاں ، کشیدگی برقرار
حیدرآباد ۔ 9 ۔ مارچ (سیاست نیوز) تلنگانہ اور آندھراپردیش حکومتوں کا واستو ایک ہے لیکن مسائل بالخصوص سیاسی امور پر دونوں حکومتوں میں دوری اور کشیدگی برقرار ہے۔ واستو کے اعتبار سے دونوں حکومتوں نے 7 مارچ کو اسمبلی کے بجٹ سیشن کے آغاز کا فیصلہ کیا۔ ایک ہی دن میں گورنر ای ایس ایل نرسمہن نے دونوں ریاستوں کے ایوانوں کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کیا۔ دلچسپ بات یہ رہی کہ نرسمہن نے صبح میں آندھراپردیش اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے ریاست کی تقسیم کے طریقہ پر نکتہ چینی کی جبکہ بعد میں تلنگانہ اسمبلی و کونسل سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے سنہری تلنگانہ کی تشکیل کیلئے حکومت کی ستائش کی۔ بیک وقت دونوں اسمبلیوں اور کونسلوں کے اجلاس کے سبب سیکوریٹی عہدیداروں کو سخت دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے کیونکہ بیک وقت دونوں ریاستوں کے چیف منسٹرس ، وزراء اور ارکان اسمبلی اور کونسل کے احاطہ میں موجود ہیں اور آمد و رفت کیلئے بھی ایک ہی راستہ ہے۔ اسمبلی اور کونسل کی سیکوریٹی پر تلنگانہ اور آندھراپردیش کے پولیس عہدیدار اور ملازمین تعینات ہیں۔ سیکوریٹی کی ان دشواریوں کے باوجود دونوں حکومتوں نے واستو پر عمل کرنے کو ترجیح دی اور ایک ہی دن اجلاس شروع کیا۔ دونوں ریاستوں کے وزراء اور ارکان کیلئے اسمبلی اور کونسل میں لابی کا حصہ مشترک ہے۔ اسمبلی میں موجود اعلیٰ عہدیداروں کو اس مسئلہ پر آپس میں تبصرہ کرتے دیکھا گیا۔ عہدیداروں کا کہنا تھا کہ جب اسمبلی اجلاس کے لئے دونوں ریاستوں کا واستو ایک ہوسکتا ہے تو پھر عوامی فلاح و بہبود کیلئے بھی دونوں ریاستوں کو ٹکراؤ کے بجائے مل کر کام کرنا چاہئے ۔