تلنگانہ وآندھرا پردیش میں برقی کی تقسیم ، تلنگانہ میں برقی بحران کا امکان

زرعی ، صنعتی و گھریلو سربراہی برقی میں 3 ہزار میگاواٹ کی کمی ، 3سال تک برقی قلت کا سامنا ہوگا

حیدرآباد۔ 11 مئی (سیاست نیوز) علیحدہ ریاست تلنگانہ کی تشکیل سے قبل ہی علاقہ تلنگانہ میں برقی بحران کے خدشات ہیں۔ باوثوق ذرائع کے مطابق آئندہ ماہ 2 جون کو علیحدہ ریاست تلنگانہ کی تشکیل عمل میں آنے پر تلنگانہ کیلئے 53.89% اور آندھرا پردیش کیلئے 46.11% کے لحاظ سے برقی مختص کی گئی ہے۔ فی الوقت تلنگانہ میں زراعت کے لئے 6 گھنٹے، گھریلو صارفین کیلئے 16 گھنٹے، صنعتی شعبہ کیلئے 24 گھنٹے برقی سربراہی کیلئے 10 ہزار میگا واٹس برقی درکار ہوگی۔ اس کے علاوہ آئندہ دنوں میں آبپاشی سہولتوں کی فراہمی کے لئے شروع کی جانے والی لفٹ اریگیشن اسکیمات کے لئے مزید 2 ہزار میگاواٹس برقی درکار ہے اور ان اعداد و شمار کی روشنی میں علاقہ تلنگانہ میں فی الحال 7 ہزار میگاواٹ برقی دستیاب ہے اور اس طرح 3 ہزار میگاواٹس برقی کی کمی ہوسکتی ہے۔ مذکورہ اغراض کو پورا کرنے کے لئے (زرعی و صنعتی شعبہ اور گھریلو سربراہی) 3 ہزار میگاواٹس برقی سربراہی میں کمی ہے اور لفٹ اریگیشن اسکیمات شروع کئے جانے کے بعد مزید 2 ہزار میگاواٹس برقی کی ضرورت ہوگی۔ اس طرح جملہ 5 ہزار میگاواٹس برقی کی کمی کے باعث تلنگانہ میں برقی بحران پیدا ہوسکتا ہے۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ آندھرا پردیش سے ریاست تلنگانہ کو 500 میگاواٹس برقی فراہم ہوسکے گی۔

اس کے باوجود 4,500 میگاواٹ برقی کی قلت ہے اور اس قلت کو دور کرنے کے لئے زائد قیمتوں پر برقی خریدی کرنے کی ضرورت رہے گی، لیکن زائد قیمتوں پر برقی خریدی کرنے کی تلنگانہ ڈسکامس میں صلاحیت دکھائی نہیں دیتی لہذا حکومت کی جانب سے مفت برقی سربراہی، گھریلو اغراض کی برقی سربراہی سے متعلق سبسڈی مناسب وقت پر فراہم ہونے کی صورت میں برقی سربراہی کی صورتحال میں کسی قدر بہتری پیدا ہوسکتی ہے۔ ضلع نیلور میں 800 میگاواٹس برقی پیداواری یونٹ میں جولائی سے مکمل برقی پیداوار کا آغاز ہونے پر تلنگانہ کو 400 میگاواٹ برقی فراہم ہونے کا امکان ہے۔

اس کے علاوہ مرکزی حکومت کی جانب سے کسی ریاست کو مختص نہ کی جانے والی برقی میں سے 500 میگاواٹس برقی تلنگانہ کو حل ہونے پر تلنگانہ کیلئے کسی قدر مزید راحت حاصل ہوسکے گی۔ مرکز میں نئی حکومت تشکیل پانے کے بعد تلنگانہ کے متعلق موافق ذہن رکھنے کی صورت میں 1000 تا 1500 میگاواٹس برقی زائد حاصل ہونے کے امکانات پیدا ہوسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ضلع ورنگل میں کے ٹی پی پی (بھوپال پلی)، عادل آباد ضلع میں سنگارینی کے پاس زیرتعمیر 600 میگاواٹ کے تین برقی پراجیکٹس مکمل ہونے پر آئندہ دو سال کے دوران مزید 1800 میگاواٹ برقی دستیاب ہوسکے گی، لیکن یہ تمام توقعات کے مطابق ہونے کی صورت میں ہی برقی قلت سے نمٹنے میں مدد ملے گی۔ اگر توقعات کے مطابق نہ ہوا تو آئندہ دو تین سال تک علاقہ تلنگانہ میں برقی کے مسائل و مشکلات پیش آنے کا برقی شعبہ کے ماہرین نے اظہار کیا ہے۔