تلنگانہ میں 50 ہزار سے زائد طلباء اسکالر شپ سے محروم

مرکز کی پری میٹرک اسکالر شپ کا جاریہ سال بھی آغازنہیں ہوا
حیدرآباد۔/14اپریل، ( سیاست نیوز) اقلیتی طلبہ کیلئے مرکزی حکومت کی پری میٹرک اسکالر شپ کے سلسلہ میں تلنگانہ میں 50ہزار سے زائد طلبہ درخواستوں کے ادخال کے باوجود اسکالر شپ سے محروم رہے۔ سال2014-15 پری میٹرک اسکالر شپ کے سلسلہ میں مرکزی حکومت نے تلنگانہ کے 10اضلاع کیلئے62030 کا نشانہ مقرر کیا تھا جبکہ ایک لاکھ 11ہزار 887 درخواستیں داخل کی گئیں۔ اس طرح 57010 طلبہ اسکالر شپ سے محروم رہے۔ اقلیتی فینانس کارپوریشن کے ذرائع نے بتایا کہ جاریہ سال کیلئے ابھی تک مرکزی حکومت نے پری میٹرک، پوسٹ میٹرک اور میرٹ کم مینس اسکالر شپ کے سلسلہ میں تلنگانہ کیلئے نشانہ مقرر نہیں کیا ہے جس کے باعث جاریہ سال اسکیم پر عمل آوری کا ابھی تک آغاز نہیں ہوا۔ بتایا جاتا ہے کہ گزشتہ سال فریش اور رینول کی جملہ 2لاکھ 34ہزار 10 درخواستیں داخل کی گئیں جبکہ ایک لاکھ 76ہزار 178 طلبہ کو اسکالر شپ منظور کی گئی جس کے لئے 47کروڑ 67لاکھ 95ہزار 80 روپئے جاری کئے گئے جس میں فریش درخواستوں کیلئے 13کروڑ 73لاکھ 48ہزار 540 روپئے جاری کئے گئے جبکہ رینول کے سلسلہ میں داخل کی گئی ایک لاکھ 22ہزار 123 درخواستوں میں ایک لاکھ 14ہزار 148 کو منظوری دی گئی جس کی رقم 33کروڑ 94لاکھ 46ہزار 540 روپئے ہے۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے اسمبلی میں تیقن دیا تھا کہ مرکزی پری میٹرک اسکالر شپ کے سلسلہ میں جو طلبہ اسکالر شپ کے حصول سے محروم رہیں انہیں تلنگانہ حکومت اپنے بجٹ سے پری میٹرک اسکالر شپ منظوری کرے گی تاہم اس سلسلہ میں ابھی تک باقاعدہ احکامات جاری نہیں کئے گئے۔ 2014-15 کے دوران پری میٹرک اسکالر شپ کی فریش اور رینول دونوں زمروں میں عادل آباد میں 14262 درخواستوں کو منظوری دی گئی جبکہ حیدرآباد میں 55997، کریم نگر 13062، کھمم 7270، محبوب نگر14362، میدک 8737، نلگنڈہ 4360، نظام آباد 38386، رنگاریڈی 9508 اور ورنگل میں 10234 درخواستوں کو منظوری دی گئی ہے۔ جملہ منظورہ درخواستوں میں ایک لاکھ 70ہزار 115 مسلم طلبہ ہیں جبکہ 5570عیسائی، 233سکھ، 227 بدھسٹ، 15جین اور 18پارسی طلبہ شامل ہیں۔