حیدرآباد۔/13اگسٹ، ( سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ نے ضلع نلگنڈہ کے ناگر جنا ساگر کے مقام پر 1600 کروڑ کے مصارف سے ڈیفنس ریسرچ ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن ( ڈی آر ڈی او ) کے ایک اہم شعبہ کا قیام عمل میں لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلہ میں آج چیف منسٹر تلنگانہ ریاست مسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی صدارت میں آج ایک اہم اجلاس سکریٹریٹ میں منعقد ہوا۔ اس اجلاس یں مسرس ٹی ہریش راؤ وزیر آبپاشی، کے وی رمنا چاری مشیر حکومت تلنگانہ، مینا سکریٹری محکمہ مال، جوشی سکریٹری محکمہ آبپاشی، نرسنگ راؤ پرنسپال سکریٹری برائے چیف منسٹر و دیگر عہدیدار شریک تھے اور اجلاس میں مذکورہ شعبہ کا قیام عمل میں لانے کیلئے تعلیمی جائزہ لیا گیا۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ ہندوستان میں کئی ایک مقامات و علاقوں میں ڈی آر ڈی او کے اس شعبہ کو قائم کرنے کیلئے مناسب مقام و اراضی کی فراہمی کیلئے کوشش کی گئی
جس کے ایک حصہ کے طور پر ہی اس شعبہ کا قیام عمل میں لانے کیلئے ناگرجنا ساگر کے مقام کو بہت ہی موزوں مقام خود محکمہ دفاع کے عہدیداروں نے قرار دیا اور نشاندہی بھی کی۔ چیف منسٹر نے اجلاس کو بتایا کہ ملک بھر میں یہ شعبہ کہیں بھی قائم نہیں ہے اور دنیا بھر میں ہی صرف 5مقامات پر ہی یہ شعبہ قائم ہے اور کہا کہ فی الوقت مرکزی وزارت دفاع اپنی ضروریات کیلئے ماسکو میں قائم یونٹ پر ہی انحصار کررہا ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ اس یونٹ کا قیام علاقہ تلنگانہ کی ترقی میں کافی حد تک ممدومعاون ثابت ہوگا اور بتایا کہ اس یونٹ کے قیام کیلئے ناگر جنا ساگر میں کم سے کم 100ایکر اراضی مختص کرنے کا بھی اعلان کیا۔ چیف منسٹر تلنگانہ نے کہا کہ (100) کروڑ روپئے کے مصارف سے قائم کئے جانے والے یونٹ کے ذریعہ راست یا بالواسطہ طور پر ہزاروں بے روزگار نوجوانوں کو روزگار ے مواقع فراہم ہوں گے۔ ناگر جنا ساگر ( پراجکٹ کے مقام کا ) کے وقار میں مزید اضافہ ہوگا۔
چیف منسٹر نے کہا کہ علاقہ تلنگانہ میں پائے جانے والے مختلف انجینئرنگ کالجس میں تعلیم حاصل کرنے والے طلباء و طالبات کیلئے بھی یہ یونٹ کافی مددگار ثابت ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ انتہائی اہمیت کا حامل یونٹ قائم کرنے پر ملک و بیرون ممالک کے سائنسدانوں و دیگر ماہرین اور اعلیٰ رتبہ کے حامل ڈائرکٹر و عہدیداروں کی آمد کا سلسلہ شروع ہوگا۔ چیف منسٹر تلنگانہ نے مزید کہا کہ ان تمام ماہرین و سائنسدانوں کی آمدورفت کو بہت ہی آسان بنانے کیلئے ناگرجنا ساگر میں ہی جہاز اُترنے کیلئے درکار رن وے بھی تعمیر کیا جائے گا اور اس رن وے کو ( ایراسٹراپ ) کو صرف اور صرف مرکزی وزارت دفاع کی ضروریات کیلئے ہی نہیں بلکہ سیاحوں کی آمد و رفت میں آسانی پیدا کرنے کیلئے استعمال کیا جائے گا۔