ٹی آر ایس کی دس ماہی حکومت میں صفر نتائج ، محمد علی شبیر کا میڈیا پوائنٹ پر خطاب
حیدرآباد ۔ 7 ۔ مارچ : ( سیاست نیوز ) : ڈپٹی فلور لیڈر کونسل مسٹر محمد علی شبیر نے گورنر کے خطبہ کو ’’ کورا کاغذ ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں 12 فیصد مسلم تحفظات کا کوئی تذکرہ نہیں ہے اور نہ ہی ٹی آر ایس حکومت کے 10 ماہ کی کارکردگی کے کوئی نتائج کا ذکر ہے ۔ کونسل کے میڈیا پوائنٹ پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر محمد علی شبیر نے کہا کہ گورنر کے خطبہ میں حکومت کے کوئی کارنامے نہیں ہیں اور نہ ہی مستقبل کے لیے کوئی حوصلہ افزاء امیدیں ہیں ۔ ٹی آر ایس نے اپنے انتخابی منشور میں مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کا وعدہ کیا تاہم 10 ماہ کے اقتدار میں تحفظات کی فراہمی کے لیے کوئی عملی اقدامات نہیں کئے گئے ۔ گورنر کا خطبہ حکومت کے منصوبوں کا آئینہ دار ہوتا ہے ۔ اس میں بھی 12 فیصد مسلم تحفظات کا کوئی تذکرہ نہیں ہے ۔ اس سے اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے تئیں ٹی آر ایس حکومت کی دلچسپی کا اظہار ہوتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ بجٹ سیشن میں ایک منظم سازش کے تحت مسلمانوں کی تعداد کو گھٹا کر پیش کیا گیا ۔ تاکہ 12 فیصد مسلم تحفظات کو سبوتاج کیا جاسکے ۔ اس مرتبہ گورنر کے خطبہ میں اسکو نظر انداز کیا گیا ہے ۔ ایسا لگتا ہے چیف منسٹر تلنگانہ مسٹر کے چندر شیکھر راؤ بی جے پی کے آقاؤں کو خوش کرنے اور مرکزی این ڈی اے حکومت میں شمولیت کے لیے 12 فیصد مسلم تحفظات سے انحراف کررہے ہیں۔ اس کا تازہ ثبوت یہ ہے کہ 16 صفحات پر مشتمل گورنر کے خطبہ میں صرف 16 سطروں میں اقلیتی بہبود پر روشنی ڈالتے ہوئے ختم کردیا گیا ہے ۔ گورنر کے اس خطبہ سے اشارہ ملتا ہے کہ ٹی آر ایس حکومت مسلمانوں اور قبائیلی طبقات کو 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کے معاملے میں سنجیدہ نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے ماباقی 75 فیصد مجاہدین آزادی کو رقمی امداد کے علاوہ دوسری کوئی بھی سہولتوں کا اعلان نہیں کیا ۔ گورنر خطبہ کے دوران حکمران ٹی آر ایس ارکان کے رویے کی مسٹر محمد علی شبیر نے سخت مذمت کرتے ہوئے اس کو غیر جمہوری حرکت قرار دیا ۔ 11 ارکان اسمبلی اور 14 ارکان قانون ساز کونسل نے پارٹیوں سے انحراف کیا ہے ۔ مسٹر ٹی سرینواس یادو نے تلگو دیشم سے کامیابی حاصل کرتے ہوئے ٹی آر ایس کابینہ میں شامل ہوئے ۔ انہوں نے پارٹیوں سے انحراف کرنے والے ارکان کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔۔