کانگریس سے سنہرے تلنگانہ کی تشکیل ، کونسل میں قائد اپوزیشن ڈی سرینواس کی تقریر
حیدرآباد ۔ 9 ۔ مارچ : ( سیاست نیوز ) : قائد اپوزیشن قانون ساز کونسل مسٹر ڈی سرینواس نے کہا کہ گورنر کا خطبہ ٹی آر ایس کے پمفلٹ کے مترادف ہے ۔ کانگریس نے سنہری تلنگانہ ریاست تشکیل دیا ہے اس کو ڈائمنڈ میں تبدیل کرنا ٹی آر ایس حکومت کی ذمہ داری ہے ۔ کونسل میں گورنر کے خطبہ پر اظہار تشکر مباحث میں حصہ لیتے ہوئے قائد اپوزیشن مسٹر ڈی سرینواس نے کہا کہ علحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل سے عوام کو کافی امیدیں وابستہ تھیں ٹی آر ایس کا 10 ماہ کے دور اقتدار عوامی توقعات کے برعکس ہے جس کی کانگریس پارٹی سخت مذمت کرتی ہے ۔ کسانوں کے قرضہ جات مکمل معاف نہیں ہوئے ۔ ایک لاکھ ملازمتیں دینے کا وعدہ کیا گیا جو ابھی تک پورا نہیں کیا گیا ۔ سرکاری ملازمین کو تلنگانہ انکریمنٹ دیا گیا ۔ مگر اس سے ان کی تنخواہوں میں کوئی فرق نہیں آیا ۔ بیروزگاری کی وجہ سے طلبہ پریشان ہیں ۔ فیس ری ایمبرسمنٹ اور اسکالر شپس کی اجرائی نہیں ہورہی ہے ۔ تلنگانہ کا جذبہ کسی ایک کی جاگیر نہیں ہے ۔ تمام سیاسی جماعتوں نے تحریک میں حصہ لیا ہے ۔ رضاکارانہ تنظیموں کی تحریک میں حصہ داری ناقابل فراموش ہے۔ مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ حکومت میں مخالفین تلنگانہ کو اہمیت دیتے ہوئے تلنگانہ تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والوں کے ساتھ ناانصافی کی جارہی ہے ۔ بی سی ، ایس سی ، ایس ٹی اور اقلیتوں کے لیے منظورہ بجٹ میں 20 فیصد بجٹ بھی خرچ نہیں کیا گیا ۔ طلبہ احتجاج کی راہ پر ہیں ۔ کاکتیہ مشن کے کوئی نتائج نہیں ہیں ۔ گورنر کا خطبہ ٹی آر ایس کے پمفلٹ اور منشور کے مترادف ہے ۔ ایک لاکھ کا بجٹ منظور کیا مگر 25 فیصد مجموعی بجٹ بھی جاری نہیں کیا گیا ۔ گورنر کا خطبہ مایوس کن ہے جس کی کانگریس پارٹی مخالفت کرتی ہے ۔ خطبہ میں ترقی اور بہبود کو کوئی اہمیت نہیں دی گئی ۔ تلنگانہ کے لیے زندگیاں قربان کرنے والوں سے بھی کوئی انصاف نہیں کیا گیا ۔ حکومت ترقی اور فلاح و بہبود کے کام میں اپوزیشن کو اعتماد میں لے کر کام نہیں کررہی ہے ۔۔