تلنگانہ میں کانگریس کی حکومت ہونے ہریش راؤ کی پیش قیاسی پر اظہار تشکر

جمہوریت کے تحفظ کیلئے ہم خیال پارٹیوں سے اتحاد، کے سی آر کو صدر پردیش کانگریس اتم کمار ریڈی کا مکتوب

حیدرآباد۔/10 اکٹوبر، ( سیاست نیوز) صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی اتم کمار ریڈی نے نگرانکار چیف منسٹر کے سی آر کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے چند سوالا ت کئے۔ ہریش راؤ کی جانب سے آئندہ ریاست میں کانگریس کی حکومت تشکیل پانے کی پیش قیاسی کرنے کا خیرمقدم کیا اور ہریش راؤ سے اظہار تشکر کرتے ہوئے کہاکہ ٹی آر ایس کا 100اسمبلی حلقوں پر کامیابی حاصل کرنے کا دعویٰ ایک خواب ہے۔ ہریش راؤ نے انہیں مکتوب روانہ کرتے ہوئے اس کا اعتراف کیا ہے۔ اتم کمار ریڈی نے کہا کہ ہریش راؤ نے خود قبول کیا ہے کہ کانگریس پارٹی تلگودیشم سے اتحاد کرتے ہوئے تلنگانہ میں حکومت تشکیل دے گی جس پر وہ ہریش راؤ سے اظہار تشکر کرتے ہیں جنہوں نے حقیقت کو تسلیم کیا ہے۔ صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی نے کہا کہ کانگریس پارٹی تنہا مقابلہ کرتے ہوئے ٹی آر ایس کو شکست دینے کی سیاسی طاقت رکھتی ہے۔ لیکن کے سی آر کو مستقل طور پر سیاست سے سبکدوش کرتے ہوئے فارم ہاوز تک محدود کرنے اور تلنگانہ کے نقشہ سے ٹی آر ایس کا مقابلہ کرنے کیلئے کانگریس پارٹی ہم خیال جماعتوں سے سیاسی اتحاد کررہی ہے تاکہ جمہوریت کا تحفظ کیا جاسکے۔ لیکن ہریش راؤ نے ٹی آر ایس کو شکست ہونے کا رائے دہی سے قبل اعتراف کرلیا ہے۔ کانگریس پارٹی تلنگانہ میں عوامی حکومت تشکیل دے گی۔ اتم کمار ریڈی نے کہا کہ اگر ٹی آر ایس حکومت کی جانب سے صحیح حکومت کی جاتی تو کانگریس کو عظیم اتحاد تشکیل دینے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی۔ صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی نے کہا کہ ٹی آر ایس غلط فہمی کا شکار ہے کہ اس کے ساتھ اتحاد کرنے سے کانگریس کو 2004 میں اقتدار حاصل ہوا تھا۔ ٹی آر ایس نے 2009 میں تلگودیشم سے اتحاد کیا تھا تب بھی کانگریس کو اقتدار حاصل ہوا تھا۔ 2009 میں حامی تلنگانہ رہنے والی تلگودیشم اب مخالف تلنگانہ کیسے ہوسکتی ہے وضاحت کرنے کا نگرانکار چیف منسٹر کے سی آر سے مطالبہ کیا۔ اتم کمار ریڈی نے کہا کہ اگر تلگودیشم مخالف تلنگانہ تھی تو پھر چندرا بابو نائیڈو کو چنڈی یاگم میں مدعو کرکے کیوں تہنیت پیش کی گئی۔ خود کے سی آر نے وجئے واڑہ پہنچ کر چیف منسٹر آندھرا پردیش این چندرا بابونائیڈو سے ملاقات کی اور انہیں چنڈی یاگم کیلئے مدعو کیا تھا۔ انہوں نے مختلف تلنگانہ قائدین ٹی ناگیشورراؤ اور پی مہیندر ریڈی کو تلنگانہ کابینہ میں شامل کرنے ڈی ناگیندر، تیگلا کرشنا ریڈی کے علاوہ دوسروں کو ٹی آر ایس میں شامل کرنے کی وجہ طلب کی۔ اتم کمار ریڈی نے کہا کہ شرم کی بات ہے کہ مخالف تلنگانہ مجلس آج ٹی آر ایس کی حلیف جماعت ہے جس ے تلنگانہ کی حیدرآباد اور دہلی میں کھل کر مخالفت کی تھی۔ اتم کمار ریڈی نے کہا کہ نوجوانوں اور طلبہ کی قربانیوں سے متاثر ہو کر سونیا گاندھی نے علحدہ تلنگانہ ریاست تشکیل دی تھی۔ تاہم علحدہ ریاست تشکیل پانے کے بعد کے سی آر نے علحدہ تلنگانہ ریاست کی تحریک میں اہم رول ادا کرنے والے بیروزگار نوجوانوں کو روزگار فراہم نہیں کیا اور نہ ہی طلبہ کو فیس ریمبرسمنٹ جاری کیا۔ انہوں نے کہا کہ جن نوجوانوں نے جان کی قربانی دی تھی ان کے ارکان خاندان کو نظرانداز کرنے والے کے سی آر نے اپنے خاندان کے 5 ارکان کو سیاسی نمائندگی دی ہے۔ اتم کمار ریڈی نے کے سی آر کے ارکان خاندان پر تعمیری و ترقیاتی کاموں میں کنٹراکٹرس سے 6 فیصد کمیشن وصول کرنے کا الزام عائد کیا۔