تلنگانہ میں کانگریس کی اقتدار پر واپسی کیلئے محنت پر زور

علحدہ ریاست کی تشکیل سونیاگاندھی کی مرہون منت ‘ پردیش کانگریس کے اجلاس سے ڈگ وجئے سنگھ کا خطاب
حیدرآباد۔24اگست ( سیاست نیوز)کانگریس شکست سے خوفزدہ خاموش رہنے والی سیاسی جماعت نہیں ہے اسی لئے کانگریس کارکنوں کو چاہیئے کہ وہ واپس اقتدار میں آنے کیلئے محنت جاری رکھیں ۔ اے آئی سی سی جنرل سکریٹری مسٹر ڈگ وجئے سنگھ نے آج کانگریسی قائدین و کارکنوں کے اجلاس سے خطاب کے دوران یہ بات کہی ۔ انہوں نے کارکنوں کو مشورہ دیا کہ پارٹی کی اقتدار میں طوفانی واپسی کی تیاریاں جاری رکھیں چونکہ کانگریس پارٹی عوام سے کئے جانے والے وعدوں کو پورا کرتے ہوئے ایک تاریخ بنائی ہے ۔ مسٹر ڈگ وجئے سنگھ نے اعلان کیا ہے کہ کانگریس حلقہ پارلیمنٹ میدک کے ضمنی انتخابات میں تنہا مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ جنرل سکریٹری اے آئی سی سی نے میدک ضمنی انتخابات میںکسی بھی طرح کے مفاہمت کے امکانات کو مسترد کردیا ۔انہوں نے بتایا کہ پارٹی کارکنوں کو حالات سے مایوس ہونے کے بجائے عوام کو اس بات سے واقف کروانا چاہیئے کہ ریاست تلنگانہ کی تشکیل کانگریس کے مرہون منت ہے ۔ اگر کانگریس اپنے وعدہ پر برقرار رہتے ہوئے تشکیل تلنگانہ کے عمل کو پورا نہیں کرتی تو صورتحال کچھ اور ہوتے ۔ انہوں نے بالواسطہ طور پر بھارتیہ جنتا پارٹی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ مرکز میں جو حکمرانی ہے وہ پنڈت جواہرلال نہرو کے قد کو چھوٹا کرنے کی کوشش کررہی ہے ۔ مسٹر ڈگ وجئے سنگھ نے بتایا کہ مہاتما گاندھی کے قاتلوں کا نظریہ رکھنے والے عناصر اب سردار ولبھ بھائی پٹیل کو جواہرلال نہرو کے برابر پیش کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں ۔ انہوں نے واضح کیا کہ درحقیقت سردار پٹیل بھی کانگریس ہی کے قائد تھے اور نہرو کے اچھے دوست تھے ۔ ڈگ وجئے سنگھ نے گجرات ماڈل کو جھوٹ کا پلندہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ نریندر مودی نے ملک میں جھوٹے پروپگنڈہ کی بنیاد پر اقتدار حاصل کیا ہے ۔ انہوں نے وزیراعظم کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ مسٹر نریندر مودی درحقیقت اُن پروگرامس اور پراجکٹس کا افتتاح انجام دے رہے ہیں جو کانگریس کے دور میں مکمل کئے گئے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ کانگریس کے دور میں تکمیل ہونے والے پراجکٹس و پروگرامس کے افتتاح کے ذریعہ نریندر مودی 60دن کی کارکردگی کا نمونہ پیش کرنے کی ناکام کوشش میں مصروف ہیں ۔ مسٹر ڈگ وجئے سنگھ نے کانگریسی کارکنوں اور قائدین سے خطاب کے دوران کہا کہ کانگریس نے آندھراپردیش کی تقسیم سے پارٹی کو ہونے والے نقصانات کی پرواہ کئے بغیر تلنگانہ عوام کے مطالبہ کو پورا کرنے کا فیصلہ کیا تھا ۔ انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ پارٹی تلنگانہ عوام تک سونیا گاندھی صدر آل انڈیا کانگریس کمیٹی کا پیغام پہنچانے میں ناکام رہی ۔ انہوں نے قائدین کو مشورہ دیا کہ وہ تعمیری اپوزیشن کا کردار ادا کرے اور ریاستی حکومت پر عوام سے کئے گئے وعدوں کو پورا کرنے کیلئے دباؤ ڈالتے رہے ۔ انہوں نے علحدہ ریاست تلنگانہ کی تشکیل کیلئے مسز سونیا گاندھی کی سنجیدگی کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ آل انڈیا کانگریس کمیٹی سربراہ نے ہی ریاست تلنگانہ تشکیل کیلئے راہیں ہموار کی اور کانگریس نے ریاست کی تقسیم کے مسئلہ پر دیگر سیاسی جماعتوں کی طرح اپنے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں لائی بلکہ پارٹی اپنے موقف پر ہمیشہ برقرار رہی ۔ جنرل سکریٹری اے آئی سی سی نے بتایا کہ جولائی 2015ء میں کانگریس کے تنظیمی انتخابات منعقد ہوں گے ۔ انہوں نے پارٹی قائدین کو مشورہ دیا کہ رکنیت سازی کی مہم 31ڈسمبر 2014ء تک مکمل کرلیں۔