تلنگانہ میں ٹی آر ایس کے زوال کا آغاز : محمد علی شبیر

کونسل کی تین نشستوں پر شکست سے عوامی برہمی کا اظہار، برسر اقتدار پارٹی میں بغاوت کی پیش قیاسی
حیدرآباد ۔ 26۔ مارچ (سیاست نیوز) تلنگانہ میں قانون ساز کونسل کی تین نشستوں کے نتائج ٹی آر ایس کے زوال کے آغاز کی علامت ہیں۔ اساتذہ زمرہ کی دو اور گریجویٹ زمرہ کی ایک نشست پر ٹی آر ایس کے تائیدی امیدواروں کو شکست ہوئی جبکہ کانگریس کے تائیدی امیدوار کامیاب رہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ بنیادی سطح پر تعلیم یافتہ افراد کے سی آر حکومت سے کس قدر ناراض ہیں۔ کانگریس کے سینئر قائد اور قانون ساز کونسل میں کانگریس کے فلور لیڈر محمد علی شبیر نے نتائج کو ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی انتخابات میں دولت ، طاقت اور نظم و نسق کے استعمال کے ذریعہ ٹی آر ایس نے کامیابی حاصل کی تھی جبکہ بنیادی سطح پر عوام میں حکومت کے خلاف ناراضگی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ اگر اسمبلی انتخابات آزادانہ اور منصفانہ ہوتے تو کانگریس کی کامیابی یقینی تھی۔ الیکشن کمیشن اور اس کے تلنگانہ میں عہدیداروں نے کے سی آر کے ایجنٹ کی طرح کام کیا۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ اسمبلی نتائج کے دو ماہ بعد تین کونسل کی نشستوں پر ٹی آر ایس کی شرمناک شکست ظاہر کرتی ہے کہ عوام کے سی آر حکومت سے سخت ناراض ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں ٹی آر ایس کے زوال کا عملاً آغاز ہوچکا ہے اور کونسل کے نتائج کے بعد ٹی آر ایس میں اختلافات شدت اختیار کرسکتے ہیں۔ انہوں نے پیش قیاسی کی کہ لوک سبھا انتخابات کے بعد ٹی آر ایس کے ناراض قائدین کے سی آر کے خلاف بغاوت کردیں گے ۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ لوک سبھا انتخابات میں کے سی آر نے تلنگانہ تحریک میں حصہ لینے والے قائدین کو نظر انداز کرتے ہوئے صرف دولتمندوں کو ٹکٹ دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بعض حلقوں سے تلنگانہ تحریک کے مخالفین کو امیدوار بنایا گیا جبکہ کانگریس نے تلنگانہ کے کٹر حامیوں کو ٹکٹ دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اساتذہ اور گریجویٹ زمرہ کے نتائج حکومت اور برسر اقتدار پارٹی کے خلاف عوامی برہمی کا واضح ثبوت ہے ۔ جس طرح کے سی آر نے غیر جمہوری اور غیر دستوری طریقے اختیار کرتے ہوئے کانگریس ارکان اسمبلی کو انحراف پر مجبور کیا، اس سے عوام خوش نہیں ہیں۔ انہوں نے کونسل کی تینوں نشستوں پر ٹی آر ایس کے تائیدی امیدواروں کو شکست سے دوچار کرتے ہوئے کے سی آر کو متنبہ کیا ہے کہ وہ اس طرح کی سرگرمیوں سے باز آجائیں۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ گزشتہ پانچ برسوں میں کے سی آر نے عوام سے کئے گئے وعدوں کو فراموش کردیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ دہلی میں بی جے پی سے دوستی اور تلنگانہ میں کُشتی کے ذریعہ عوام کو گمراہ کیا جاتا رہا۔ انہوں نے کہا کہ لوک سبھا انتخابات میں کانگریس کو عوام کی بھرپور تائید حاصل ہوگی اور عوام کے سی آر کو سبق سکھائیں گے۔ کے سی آر نے علحدہ تلنگانہ کی تشکیل کی ذمہ دار کانگریس پارٹی اور اس کی قیادت کی توہین کی ہے جو عوام کیلئے ناقابل برداشت ہے۔