مرکز میں یو پی اے حکومت کے لیے تعاون ، صدر ٹی آر ایس کے سی آر کا اسمبلی و لوک سبھا امیدواروں کے اجلاس سے خطاب
حیدرآباد۔/9مئی، ( سیاست نیوز) ٹی آر ایس کے سربراہ کے چندر شیکھر راؤ نے تلنگانہ میں ٹی آر ایس اور سیما آندھرا میں وائی ایس آر سی پی کی حکومت کا دعویٰ کیا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ مرکز میں این ڈی اے کی تائید کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔تاہم وہ یو پی اے حکومت کے قیام کے سلسلہ میں تعاون کیلئے تیار ہیں۔ ٹی آر ایس کی ریاستی عاملہ کا اجلاس تلنگانہ بھون میں منعقد ہوا جس میں پارٹی کے سینئر قائدین کے علاوہ لوک سبھا اور اسمبلی کے تمام امیدواروں نے شرکت کی۔ اجلاس میں انتخابات میں رائے دہی اور نتائج کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔ اس کے علاوہ مستقبل کے لائحہ عمل اور خاص طور پر تلنگانہ میں حکومت سازی اور مرکز میں تشکیل حکومت میں اہم رول پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ امیدواروں نے اپنی کامیابی کا یقین ظاہر کرتے ہوئے تلنگانہ میں ٹی آر ایس کو اقتدار ملنے کی پیش قیاسی کی۔ بعد میں اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ٹی آر ایس سربراہ نے کہا کہ نتائج کے بعد تلنگانہ میں ٹی آر ایس کی حکومت کا قیام یقینی ہے اور معلق اسمبلی کے بارے میں جاری پیش قیاسیاں غلط ثابت ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس کو زائد نشستوں پر کامیابی حاصل ہوگی، 60تا90نشستوں پر پارٹی امیدوار بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کریں گے۔ اگر اس سے زائد نشستوں پر پارٹی کو کامیابی ملتی ہے تو یہ حیران کن ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد میں بھی ٹی آر ایس زائد نشستوں پر کامیابی حاصل کرے گی۔ انہوں نے بتایا کہ نلگنڈہ، رنگاریڈی، محبوب نگر اضلاع میں نتائج توقع کے مطابق ہوں گے۔ کھمم ضلع میں ٹی آر ایس اپنی کامیابی کا آغاز کرے گی۔ سابق میں اس ضلع میں پارٹی کو کبھی بھی کامیابی حاصل نہیں ہوئی تھی، اس مرتبہ توقع ہے کہ تلنگانہ لہر کے باعث پارٹی کھمم میں بہتر مظاہرہ کرے گی۔ کے سی آر نے کہا کہ تشکیل حکومت کے سلسلہ میں ٹی آر ایس نے کسی بھی جماعت سے مشاورت نہیں کی کیونکہ وہ کسی کی تائید کے بغیر تشکیل حکومت کے موقف میں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کو 30سے زائد نشستیں حاصل نہیں ہوسکتیں۔ انہوں نے صدر تلنگانہ پردیش کانگریس پونالہ لکشمیا کے مخالف ٹی آر یس بیانات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پونالہ لکشمیا کو بیان بازی بند کرتے ہوئے کانگریس کو بچانے کی فکر کرنی چاہیئے، تلنگانہ میں کانگریس کا مظاہرہ کمزور رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ بعض طاقتیں چاہتی ہیں کہ ٹی آر ایس تلنگانہ میں برسراقتدار نہ آئے لیکن عوام نے ٹی آر ایس کے اقتدار کے حق میں فیصلہ دیا ہے کیونکہ تلنگانہ کی تعمیر نو اور عوامی مسائل کی یکسوئی صرف ٹی آر ایس سے ہی ممکن ہے۔ چندر شیکھر راؤ نے مرکز میں راہول گاندھی کے وزیر اعظم بننے کی سنسنی خیز پیش قیاسی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ راہول گاندھی وزیر اعظم کے عہدہ پر فائز ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر راہول گاندھی کے وزیر اعظم بننے کے امکانات ہوں تو ٹی آر ایس ان سے تعاون کرے گی۔انہوں نے واضح کیا کہ سونیا گاندھی اور راہول گاندھی کے بارے میں انہیں کوئی ناراضگی نہیں ہے اور انہوں نے کبھی بھی ان کی مخالفت نہیں کی۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ سونیا گاندھی کی مساعی کے سبب ہی تلنگانہ ریاست وجود میں آئی ہے۔ اس سلسلہ میں وہ ہمیشہ سونیا گاندھی کے شکر گذار رہیں گے۔ کے سی آر نے کہا کہ وہ مرکز میں تیسرے محاذ کی حکومت کی تشکیل کی کوشش کررہے ہیں۔ این ڈی اے کی تائید کے امکانات کو مسترد کرتے ہوئے کے سی آر نے کہا کہ این ڈی اے میں شمولیت یا تائید کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ضرورت پڑنے پر ٹی آر ایس مرکز میں یو پی اے کی تائید کرے گی۔ کے سی آر نے سیما آندھرا میں جگن موہن ریڈی کے چیف منسٹر بننے کو یقینی قرار دیا اور کہا کہ چندرا بابو نائیڈو کا چیف منسٹر بننے کا خواب ادھورا رہ جائے گا۔انہوں نے کہا کہ سیما آندھرا میں وائی ایس آر کانگریس پارٹی 100سے زائد نشستوں پر کامیابی حاصل کرے گی اور اسی کی حکومت ہوگی۔ چندرا بابو نائیڈو کسی بھی صورت میں چیف منسٹر کے عہدہ پر فائز نہیں ہوپائیں گے۔ انہوں نے اس بات کا اشارہ دیا کہ پڑوسی ریاست سیما آندھرا کے نئے چیف منسٹر کے ساتھ مسائل کی یکسوئی کے سلسلہ میں باہمی تعاون کو فروغ دیا جائے گا۔ انہوں نے پیش قیاسی کی کہ مستقبل میں بھی چندرا بابو نائیڈو کے چیف منسٹر بننے کے امکانات موہوم ہیں۔ انہوں نے پونالہ لکشمیا اور کانگریس کے تلنگانہ قائدین کے ان بیانات پر برہمی کا اظہار کیا جس میں کہا گیا کہ ٹی آر ایس کے 20ارکان اسمبلی کانگریس سے ربط میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس کے قائدین نے عہدوں کیلئے کبھی بھی دوڑ دھوپ نہیں کی۔ انہوں نے سوال کیا کہ پونالہ لکشمیا سیاست کررہے ہیں یا وہ جوکر کا رول ادا کررہے ہیں۔ نتائج سے قبل ہی ان کے بیانات گھٹیا سیاست کو ثابت کرتے ہیں۔ کے سی آر نے کہا کہ ٹی آر ایس حکومت انتخابی منشور پر عمل آوری کو ترجیح دے گی اور غیر موسمی بارش کے سبب کسانوںکو جو بھاری نقصانات ہوئے ہیں ان کی پابجائی کے اقدامات کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ نقصان کا شکار کسانوں کی ہرممکن مدد کی جائے گی۔ انہوں نے گورنر سے مطالبہ کیا کہ وہ متاثرہ اضلاع کا دورہ کرتے ہوئے صورتحال کا جائزہ لیں۔