نظر ثانی فیس تجاویز پیش کرنے سے کالجس انتظامیہ کی خاموشی ، حکومت تلنگانہ کی پالیسی سے پریشانیاں لاحق
حیدرآباد ۔ 21 ۔ مارچ : ( سیاست نیوز) : ریاست تلنگانہ میں جاریہ تعلیمی سال کے دوران زائد از 351 پروفیشنل کالجس کے بند ہوجانے کا قوی امکان ہے کیوں کہ تلنگانہ میں نئے فیس ڈھانچہ کو قطعیت دینے کے لیے پروفیشنل کالجوں سے تجاویز پیش کرنے سے دوری اختیار کیے ہوئے ہیں ۔ اس طرح اس بات کا اندازہ لگایا جارہا ہے کہ اس تعلیمی سال میں زائد از 351 پروفیشنل کالجوں کے انتظامیوں نے اپنے کالجس کو محض تلنگانہ حکومت و یونیورسٹیوں کی ہراسانیوں کے نتیجہ میں بند کرلینے کا ارادہ ظاہر کیا ہے ۔ باوثوق ذرائع نے یہ بات بتائی اور کہا کہ حکومت نے سال 2019 تا 2022 تک تین سال کے لیے کالجوں کی فیس رقومات کا تعین کرنے کے لیے تلنگانہ فیس ریگولیٹری کمیٹی کو کالج انتظامیوں کی جانب سے درخواستیں پیش کرنا پڑتا ہے اور اپنی ان درخواستوں کے ساتھ گذشتہ تین سال کے دوران کالجوں کی آمدنی و خرچ کی مکمل تفصیلات پیش کرنے پر کالجوں کی جانب سے وصول کی جانے والی فیس رقم کا تلنگانہ فیس ریگولیٹری کمیٹی اپنا فیصلہ کرتی ہے ۔ اس سلسلہ میں تلنگانہ فیس ریگولیٹری کمیٹی کی جانب سے کالج انتظامیوں کے ذریعہ درخواستیں طلب کی گئی تھیں ۔ ان درخواستوں کی طلبی پر جملہ 1235 کالج انتظامیوں کی جانب سے درخواستیں تلنگانہ فیس ریگولیٹری کمیٹی کو وصول ہوئی ہیں جب کہ سال 2016 تا 2019 کے لیے جملہ 1586 پروفیشنل کالج انتظامیوں کی جانب سے درخواستیں پیش کی گئی تھیں ۔ اس طرح بتایا جاتا ہے کہ جو کالج انتظامیوں کی جانب سے فیس کا تعین کرنے کے لیے تلنگانہ فیس ریگولیٹری کمیٹی کو درخواستیں پیش نہیں کئے جاتے ان کالجوں کو اجازت نہیں دی جاتی ہے ۔ بلکہ جن کالج انتظامیوں کی جانب سے درخواستیں داخل نہیں کی جاتی ہیں تو یہ بات صاف طور پر اس بات کا اشارہ تصور کیا جاتا ہے کہ ان کالج انتظامیوں نے اپنے کالجوں کو بند کرلینے کا فیصلہ کرلیا ہے ۔ اسی دوران پروفیشنل کالج انتظامیوں کے ذرائع نے بتایا کہ موجودہ حکومت کی ہدایات پر تلنگانہ ریاستی کونسل برائے اعلیٰ تعلیم اور یونیورسٹی انتظامیوں کی جانب سے عائد کی جانے والی نئی نئی شرائط اور پیدا کی جانے والی نئی مشکلات کے علاوہ کی جانے والی ہراسانیوں کے نتیجہ میں کالج انتظامیوں کو اپنے کالجس بند کرلینے پر مجبور ہونا پڑرہا ہے ۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ فی الوقت زائد از 351 پروفیشنل کالجس بند کردئیے جارہے ہیں اور آئندہ چند دنوں کے دوران حکومت اور یونیورسٹیوں اور ریاستی کونسل برائے اعلیٰ تعلیم کی ہراسانیوں کے خلاف مزید کئی کالجس کے بند ہوجانے کا قوی امکان پایا جارہا ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ محض حکومت طلباء کو اسکالر شپ اور فیس ری ایمبرسمنٹ رقومات فراہم کرنے گریز کرنے کے لیے ہی کالج انتظامیوں کو معمولی نوعیت کی کوتاہیوں وغیرہ پر ہراساں کرتے ہوئے کالجوں کو بند کرلینے کے لیے کالج انتظامیوں کو مجبور کیا جارہا ہے جب کہ تلنگانہ ریاستی کونسل برائے اعلیٰ تعلیم اور یونیورسٹیوں کے عہدیدار و ملازمین کو معمولی نوعیت کی کوتاہیوں کو دور کرنے کے لیے مبینہ طور پر بھاری رقومات ادا کرنا پڑتا ہے اور بھاری رقومات کی مبینہ ادائیگی کے باوجود نت نئے طریقوں سے کالج انتظامیوں کو ہراساں کرنے کا سلسلہ جاری رہتا ہے ۔ جس سے عاجز آکر ہی بعض کالج انتظامیوں کی جانب اپنے کالجوں کو بند کرلینے کا فیصلہ کرنے پر مجبور ہونا پڑرہا ہے ۔۔