تلنگانہ میں مقامی ادارہ جاتی انتخابات ، 22 اپریل کو اعلامیہ کی اجرائی

535 ضلع پریشد اور 5 ہزار817 منڈل پریشد انتخابات تین مرحلوں میں منعقد کرنے کا فیصلہ
حیدرآباد۔18اپریل (سیاست نیوز) تلنگانہ میں ادارۂ جات مقامی کے انتخابات 3مرحلوں میں ہوں گے اور اس سلسلہ میں پہلے مرحلہ کااعلامیہ 22اپریل کو جاری کیا جائے گا۔ ریاستی الیکشن کمیشن نے آج ریاست کے مختلف اضلاع کے ضلع کلکٹرس اور دیگر عہدیداروں سے ملاقات اور مشاور ت کے بعد یہ شیڈول جاری کیا ہے اور کہا جار ہا ہے کہ تین مرحلوں میں ہونے والے انتخابات کے دوران 535ضلع پریشد اور 5ہزار 817 منڈل پریشد ارکان کے لئے انتخابات منعقد ہوں گے۔پہلے مرحلہ میں 212 ضلع پریشد اور 2365 منڈل پریشد ارکان کے لئے6مئی کو رائے دہی ہوگی جبکہ دوسرے مرحلہ کے لئے 26اپریل کو اعلامیہ جاری کیا جائے گا اور مرحلہ کے دوران 199 ضلع پریشد اور 2109 منڈل پریشد ارکان کے لئے 10مئی کورائے دہی ہوگی۔تیسرے اور آخری مرحلہ کیلئے 30اپریل کو اعلامیہ جاری کیا جائے گا جس میں 124ضلع پریشد اور 1343 منڈل پریشد ارکان کیلئے 14مئی کو رائے دہی ہوگی۔ ریاستی الیکشن کمشنر مسٹر وی ناگی ریڈی نے گذشتہ دنوں سے اس بات کا اعلان کیا تھا کہ ریاست میں ادارہ جات مقامی کے انتخابات کیلئے کمیشن پوری طرح تیار ہے۔ آج شیڈول جاری کئے جانے کے بعد کہا جار ہاہے کہ ریاست میں شیڈول کی اجرائی کے ساتھ ہی انتخابی سرگرمیوں کا آغاز ہوجائے گا۔پہلے مرحلہ میں ریاست تلنگانہ کے دو اضلاع میڑچل اور ملکا جگری میں ادارہ جات مقامی کے انتخابات منعقد ہوںگے اور دوسرے مرحلہ میں جگتیال ‘ کریم نگر ‘ پداپلی ‘ راجنا سرسلہ ‘ جوگولامبا گدوال‘ محبوب نگر‘نارائن پیٹ رنگاریڈی ‘ وقارآباد‘ ورنگل اربن میں انتخابات منعقد کئے جائیں گے۔ تیسرے اور آخری مرحلہ کے دوران مابقی اضلاع عادل آباد‘ کمرم بھیم آصف آباد‘ منچریال ‘ نرمل ‘ بھدادری کتہ گوڑم‘ کھمم‘ناگر کرنول ‘ ونپرتی میدک‘سنگا ریڈی ‘ سدی پیٹ ‘ کاماریڈی ‘ نظام آباد‘نلگنڈہ ‘ سوریہ پیٹ ‘ یدادری بھونگیر‘ جئے شنکر بھوپل پلی ‘ جنگاؤں‘ محبو ب آباد‘ ورنگل رورل اور ملوگ میں انتخابات منعقد کئے جائیں گے۔ مسٹر وی ناگی ریڈی نے کہا کہ مراکز رائے دہی کے نشاندہی اور قیام کے سلسلہ میں اقدامات مکمل کرلئے گئے ہیں اور کمیشن کے مطابق ریاست میں ہونے والے ادارہ جات مقامی انتخابات کے سلسلہ میں فہرست رائے دہندگان کی تیاری کا عمل بھی جاری ہے ۔ ذرائع کے مطابق ریاستی الیکشن کمیشن کی جانب سے ان تین مرحلوں میں ہونے والی رائے دہی کے سلسلہ میں سیکیوریٹی کے تمام تر انتظامات کا جائزہ لیا جا چکا ہے ۔