غیر اہم حلقوں سے ٹکٹ کی فراہمی محض ضابطہ کی تکمیل، اقلیتوںمیں مایوسی
حیدرآباد۔/18اپریل، ( سیاست نیوز) ریاست کی تقسیم اور نئی ریاست تلنگانہ کے قیام کے بعد اہم سیاسی جماعتوں نے اقلیتوں کو سیاسی اور دیگر شعبوں میں تحفظات کے وعدے کئے لیکن لوک سبھا اور اسمبلی انتخابات کے ٹکٹوں کی تقسیم کے موقع پر ان وعدوں کو بھلادیا گیا۔ کانگریس، ٹی آر ایس اور وائی ایس آر کانگریس نے تلنگانہ میں اقلیتوں کو ٹکٹوں کی تقسیم میں جس انداز سے نمائندگی دی ہے اس سے اقلیتیں خوش نہیں۔ ٹی آر ایس نے نئی ریاست میں مسلمان کو ڈپٹی چیف منسٹر اور 12فیصد تحفظات کی فراہمی کا وعدہ کیا لیکن امیدواروں کی فہرست میں مسلم اقلیت کو 12فیصد نمائندگی نہیں دی گئی۔ ٹی آر ایس نے لوک سبھا حلقوں حیدرآباد اور کھمم سے مسلم امیدوار میدان میں اُتارے ہیں جبکہ اسمبلی میں 4 مسلم قائدین کو ٹکٹ دیا گیا۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ چار کے منجملہ تین اسمبلی حلقے پرانے شہر کے ہیں جہاں ٹی آر ایس امیدواروں کی کامیابی کے امکانات کافی کم ہیں، صرف نظام آباد کے بودھن اسمبلی حلقہ میں ٹی آر ایس امیدوار شکیل احمد مضبوط امیدوار ہیں۔ لوک سبھا حلقوں میں حیدرآباد اور کھمم سے علی الترتیب راشد شریف اور محمد بیگ شیخ کو ٹکٹ دیا گیا ہے لیکن ان حلقوں میں پارٹی کا موقف کمزور ہے۔ ٹی آر ایس نے جن چار مسلم امیدواروں کو ٹکٹ دیا ہے ان میں شکیل احمد ( بودھن ) شبیر احمد ( یاقوت پورہ ) عنایت علی باقری ( چارمینار ) اور محمد ضیاء الدین ( بہادر پورہ ) شامل ہیں۔ کانگریس نے تلنگانہ کے 17لوک سبھا اور 119 اسمبلی حلقوں میں صرف 4 مسلم امیدوار نامزد کئے ہیں۔ لوک سبھا کیلئے ایک بھی مسلم امیدوار کو ٹکٹ نہیں دیا گیا۔
اسمبلی حلقوں میں محمد علی شبیر ( کاماریڈی) عبید اللہ کوتوال ( محبوب نگر) بابر سلیم باشاہ ( راما گنڈم ) اور سید عبدالسمیع ( بہادر پورہ ) شامل ہیں۔ ان چار حلقوں میں کانگریس کو محبوب نگر اور راما گنڈم میں سخت مقابلہ درپیش ہے جبکہ پرانے شہر کے حلقہ بہادر پورہ سے کامیابی کے امکانات انتہائی کم ہیں۔ تلگودیشم بی جے پی سے اتحاد سے کئی مسلم قائدین نے پارٹی سے دوری اختیار کرلی اور کئی قائدین جو ٹکٹ کی دوڑ میں تھے انہوں نے مقابلہ سے رُخ موڑ لیا۔ اسکے باوجود تلگودیشم نے شہر کے دو اسمبلی حلقہ جات نامپلی اور چارمینار سے مسلم امیدواروں کو میدان میں اُتارا ہے۔ متحدہ آندھرا کے حق میں موقف سے تلنگانہ میں غیرمقبول وائی ایس آر کانگریس نے تلنگانہ کی 3لوک سبھا اور 6اسمبلی حلقوں سے مسلم امیدواروں کو ٹکٹ دیا ہے۔ محمد محی الدین( ظہیرآباد ) حبیب عبدالرحمن ( محبوب نگر ) اور ساجد علی کو ( سکندرآباد ) لوک سبھا حلقہ سے امیدوار بنایا گیا جبکہ سید افضل الدین ( منچریال) شبیر حسین ( سرپور ) شیخ محبوب ( آرمور ) مجتبیٰ احمد ( راجندر نگر) ایم اے مشتاق پاشاہ ( پداپلی ) اور محمد کو عنبرپیٹ حلقہ سے ٹکٹ دیا گیا ہے۔ تلنگانہ میں مسلم اقلیت کی آبادی 12.5فیصد ہے جبکہ سیما آندھرا میں 7 فیصد مسلمان ہیں۔ ریاست کی تقسیم کے بعد تلنگانہ میں مسلم آبادی کے فیصد میں تو اضافہ ہوا لیکن سیاسی جماعتوں نے ٹکٹوں کی تقسیم میں ان سے ناانصافی کی۔ تمام جماعتیں 2019 انتخابات میں اسمبلی و لوک سبھا کی نشستوں میں اضافہ کے بعد زائد نمائندگی کا تیقن دیا ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ اس حال میں مقامی جماعت سے ہٹ کر اسمبلی میں بمشکل تین تا چار مسلم ارکان منتخب ہوپائیں گے۔اسکے برخلاف سیما آندھرا میں کانگریس نے لوک سبھا کی ایک اور اسمبلی کی 8نشستوں سے مسلم امیدوار نامزد کئے گنٹور کیعلاوہ اسمبلی حلقوں رائچوٹی، گنٹور ( ایسٹ)، کڑپہ، سری سیلم، کرنول، ادونی، پلیرو اور مدن پلی سے مسلم امیدوار ہیں ۔