حیدرآباد۔11مارچ(سیاست نیوز) ریاست تلنگانہ کے مسلمانوں کی حالت زار میںتبدیلی کے لئے تحفظات وقت کی اہم ضرورت ہے جس کی تکمیل کے لئے حکومت تلنگانہ کی جانب سے تشکیل دئے گئے کمیشن کو قانونی حیثیت فراہم کرنے سے مذکورہ کمیشن کی رپورٹ ایک دستاویز کی شکل اختیار کرلے گی۔ آج یہاں میڈیا سے بات کرتے ہوئے چیرمن تلنگانہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی پر وفیسر کودنڈارام نے یہ بات کہی۔انہوں نے کہاکہ جس طرح منڈل کمیشن کا قیام عمل میں لاتے ہوئے بی سی کمیونٹی کو تحفظات کا مضبوط موقع فراہم کیا گیا ہے اسی طرز پر مسلمانوں کو بھی تحفظات کی فراہمی کے لئے ایک مضبوط حکمت عملی تیار کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہاکہ معاشی اورتعلیمی طور پر پسماندہ طبقات اوراقوام کو تحفظات کی فراہمی ایک دستور ی عمل ہے جس میںکسی بھی قسم کی رکاوٹ اور تاخیردستور سے انحراف کے مترادف ہوگا ۔ کودنڈارام نے کہاکہ تعلیمی شعبہ جات میں تحفظات کے بعد ریاست کے مسلمانوں میں کافی حد تک تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ یونیورسٹی اور کالجس کاجائزہ لینے کے بعد یہ بات واضح طورپر سامنے آئی ہے کہ ایس ایس سی‘ انٹرمیڈیٹ کے بعد تعلیم حاصل کرنے والوں میں مسلم نوجوانوں کی تعداد میںاضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے مزید کہاکہ اس ضمن میںعثمانیہ یونیورسٹی کے بشمول ریاست تلنگانہ کے مختلف یونیورسٹی اور کالجس کی ایک رپورٹ بھی موجود ہے جس میںتعلیمی شعبہ میںمسلمانوں کے تحفظات کو مسلمانوں کی ناخواندگی کو دور کرنے کا بہترین ذریعہ قراردیا گیا ہے۔
پروفیسر کودنڈا رام نے تعلیم کے شعبہ میں تحفظا ت سے قبل دسویں جماعت کے بعد تعلیم کا سلسلہ منقطع کرنیوالوں میںمسلم طلبہ کی تعداد زیادہ تھی جسمیں پچھلے نو سالوں میںکافی حد تک کمی آئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ معاشی پسماندگی کو ختم کرنے کے لئے کسی بھی قوم یا طبقے کو تعلیمی مواقع فراہم کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہاکہ ریاست تلنگانہ میں مسلمانوں کو آبادی اور پسماندگی کی بنیاد پر تحفظات کی فراہمی کے لئے جسٹس راجندر سنگھ سچر کمیٹی اور جسٹس رنگناتھ مشرا کمیشن کی رپورٹ کا بھی مشاہدہ کرنے کا حکومت تلنگانہ کو مشورہ دیا جو ریاست تلنگانہ کے مسلمانوں کی حقیقی صورتحال سے واقفیت حاصل کرنے میں ریاستی حکومت کو مددگارثابت ہوگا۔ انہوں نے ریاست تلنگانہ میںمسلمانوں کی تعلیمی اور معاشی پسماندگی کو دور کرنے میں حکومت کی جانب سے اٹھائے جانے والے ہر اقدام کے خیر مقدم اور تلنگانہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی جانب سے مکمل تعاون کا بھی وعدہ کیا۔ انہوں نے کہاکہ تحفظات معاشی اور تعلیمی پسماندہ مسلمانوں کو دستور ی حق ہے جس کی فراہمی ریاستی حکومت کی اولین ذمہ داری ہوگی۔