مسلم قائدین اور رائے دہندوں کو دوست اور دشمن میں تمیز کرنے کی ضرورت ،جناب عامر علی خاں کا خطاب
حیدرآباد 18 مارچ (سیاست نیوز) لوک سبھا اور اسمبلی انتخابات کے قریب بعض سیاسی پارٹیوں کی جانب سے مسلم قائدین کو نظرانداز کردینے اور ایوان اسمبلی اور پارلیمنٹ میں مسلم نمائندگی کو گھٹانے کے واضح اشاروں کے درمیان وائی ایس آر کانگریس لیڈر جناب عامر علی خاں نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ آنے والے انتخابات میں اپنے حق رائے دہی کا درست استعمال کریں۔ ٹی آر ایس لیڈر چندرشیکھر راؤ کی جانب سے مسلمانوں کو سیاسی نمائندگی دینے مزید 5 سال انتظار کرنے اور کانگریس کے انتخابی ٹکٹوں کی تقسیم پر ظہیرآباد کے مسلم رہنما فریدالدین کے ساتھ پارٹی لیڈروں کے معاندانہ رویہ کے تناظر میں جناب عامر علی خاں نے کہاکہ علیحدہ ریاست تلنگانہ تحریک میں مسلمانوں نے اہم رول ادا کیا لیکن اب مسلمانوں کے ساتھ کھلے عام دھوکہ اور فریب سے کام لیا جارہا ہے جس کی تازہ مثال محبوب نگر سے مسلم امیدوار محمد ابراہیم کو ٹکٹ سے محروم کردیا گیا۔ ٹی آر ایس لیڈر چندرشیکھر راؤ نے تلنگانہ تحریک کے دوران ایک سے زائد مرتبہ وعدہ کیا تھا کہ وہ مسلمانوں کو بھرپور نمائندگی دیں گے لیکن اب وہ وعدے سے انحراف کررہے ہیں۔ وائی ایس آر کانگریس پارٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جناب عامر علی خاں نیوز ایڈیٹر روزنامہ سیاست نے مزید کہاکہ مسلمانوں کو اِن انتخابات میں دوست اور دشمن میں فرق محسوس کرنا چاہئے۔ مسلمان چشم تصور سے اِس وقت جو سیاسی حالات کا مشاہدہ کررہے ہیں اِس کو مدنظر رکھتے ہوئے صحیح فیصلہ کریں تو اِنھیں ووٹ بینک کے طور پر استعمال کرنے والی پارٹیوں کو سبق سکھانے کا موقع ملے گا۔
ہندوستان کے مسلمان ہر مذہب کا احترام کرتے ہیں لیکن فرقہ پرست عناصر دیگر ابنائے وطن کے سامنے مسلمانوں کے خلاف غلط پروپگنڈہ کرتے ہوئے فرقہ وارانہ مقاصد کو بروئے کار لانے کی سازش کررہے ہیں۔ انھوں نے مزید کہاکہ بیشک ہندوستانی جمہوریت میں مسلمانوں کو بھی پوری آزادی حاصل ہے کہ وہ اپنی مرضی سے لیڈر کا انتخاب کریں۔ سیاسی وقت کب کروٹ لے اِس سے قائدین بے خبر ہیں۔ مسلمان اگر اپنے ووٹ کو سیاسی ہتھیار بنانے کا ہنر سیکھ لیں تو اِن سے فریب کا معاملہ رکھنے والے قائدین کو صحیح سبق مل جائے گا۔ ہر چند کہ مسلم قائدین نے مختلف پارٹیوں میں اپنی ذمہ داریاں بڑی خوبی سے سنبھالی ہیں لیکن عین انتخابات کے موقع پر اِنھیں ٹکٹ سے محروم کردینا اور اِن کے ساتھ معاندانہ رویہ رکھنا افسوسناک ہے۔ ہمیشہ یہ ہوتا آرہا ہے کہ انتخابات کے وقت مسلمانوں کو استعمال کرکے ان کے ووٹ حاصل کئے جاتے ہیں اور جب مسلم امیدوار کی نامزدگی کا معاملہ ہو تو ان کے ساتھ ناانصافی کی جاتی ہے اور انھیں محروم کردیا جاتا ہے۔ تلنگانہ کے مسلمانوں کو اپنی نوزائدہ ریاست میں حصول انصاف اور حق حکمرانی میں اپنے حصہ کو حاصل کرنے کے لئے بلاتاخیر جرأت مندانہ مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے۔ مسلم دوست پارٹی وائی ایس آر کانگریس کو ایک بار آزمائیں تو بلاشبہ اِن کے حق میں بہتر نتائج برآمد ہوں گے۔