تلنگانہ میں سہ رخی مقابلے

سیما آندھرا میں وائی ایس آر کانگریس اور تلگو دیشم میں مقابلہ
حیدرآباد ۔ 15 ۔ اپریل : ( سیاست نیوز ) : لوک سبھا اور اسمبلی انتخابات بظاہر متحدہ آندھرا پردیش میں ہورہے ہیں لیکن 2 جون سے ریاست تلنگانہ اور آندھرا پردیش میں تقسیم ہوجائے گی ۔ اس کے پیش نظر سیاسی الجھن پائی جاتی ہے اور تلنگانہ میں سہ رخی اور سیما آندھرا کے بیشتر حلقوں میں راست مقابلے ہورہے ہیں ۔ تلنگانہ کے 17 لوک سبھا اور 119 اسمبلی حلقوں میں 30 اپریل کو رائے دہی ہوگی ۔ ان حلقوں میں ٹی آر ایس ، کانگریس اور تلگو دیشم ۔ بی جے پی اتحاد کے مابین سہ رخی مقابلہ ہے ۔ مقابلوں کی یہ نوعیت ظاہر کررہی ہے نئی تلنگانہ ریاست کے لیے پیچیدہ صورتحال درپیش ہوگی ۔ سیما آندھرا کے 25 لوک سبھا اور 176 اسمبلی حلقوں میں 7 مئی کو پولنگ ہوگی ۔ ان حلقوں میں اصل مقابلہ وائی ایس آر کانگریس اور تلگو دیشم ۔ بی جے پی اتحاد کے مابین نظر آتا ہے ۔ لیکن کانگریس اور سابق چیف منسٹر کرن کمار ریڈی کی جے سمکھیہ آندھرا پارٹی بھی چناؤ میدان میں ہے ۔ لیکن یہ دونوں پارٹیاں رائے دہندوں پر شائد زیادہ اثر انداز نہیں ہوں گی ۔ سیاسی مبصرین کا احساس ہے کہ دیہی علاقوں میں وائی ایس آر کانگریس کی کافی مقبولیت ہے لیکن بڑے شہری علاقوں میں نریندر مودی کی لہر کے حوالہ سے تلگو دیشم ۔ بی جے پی اتحاد کو سبقت حاصل ہے ۔ شاید اس کے پیش نظر جگن نے ا پنی والدہ وجیہ اماں کو وشاکھا پٹنم لوک سبھا حلقہ سے امیدوار بنایا ہے ۔ تلگو دیشم اور بی جے پی میں نشستوں پر مفاہمت کے باوجود دونوں پارٹیوں کے کارکنوں میں ابھی پوری طرح تال میل نظر نہیں آتا ۔ تلگو دیشم کے قائدین اس بات پر مایوس ہیں کہ قیادت نے ایسے حلقے بی جے پی کو دے دئیے جہاں بی جے پی کا کوئی وجود نہیں ہے ۔ تلگو دیشم کے بعض دوسرے درجے کے قائدین نے یہ کہا کہ تلگو دیشم کارکن بی جے پی امیدواروں کے لیے کام نہیں کریں گے ۔ ایسی صورت میں وائی ایس آر کانگریس امیدواروں کو فائدہ ہوگا تلگو دیشم کارکنوں میں اس بات پر بھی ناراضگی پائی جاتی ہے کہ چندرا بابو نائیڈو نے کانگریسیوں کے لیے پارٹی کے دروازے کھول دئیے ہیں ۔ بی جے پی سیما آندھرا علاقے میں نریندر مودی کے خطاب کے پروگرام کی تیاری کررہی ہے ۔ چندرا بابو نائیڈو نریندر مودی کے ساتھ ڈائس پر رہنا چاہتے ہیں لیکن نریندر مودی ایسا نہیں چاہتے ۔۔