ناکافی بارش سے کپاس کی فصلیں تباہ، حکومت کی جانب سے امداد ندارد
حیدرآباد 7 اگست ( سیاست نیوز) نئی ریاست تلنگانہ کے قیام کے دو ماہ میں زائد از 100 کسانوں نے خودکشی کرلی ہے ۔ خودکشی کرنے والے کسانوں کے خاندانوں کو اب تک نئی حکومت کی جانب سے کوئی مالی امداد ہنوز وصول نہیں ہوئی اور نہ ہی کسی عہدیدار نے غمزدہ خاندانوں سے ملاقات کرکے پرسہ دینے کی زحمت کی ہے ۔ حکومت کے مقبول عام جی او 421 کے باوجود نئی ریاست تلنگانہ میں کسانوں کو قرضوں اور ناکافی بارش سے فصلوں کی تباہی کا شدید و سنگین سامنا ہے ۔ انتخابات سے قبل حکمراں پارٹی تلنگانہ راشٹرا سمیتی نے اس جی او کی پر زور وکالت کی تھی ۔ یہ جی او 2004 میں جاری کیا گیا تھا جس میں یہ لازمی قرار دیا گیا تھا کہ متوفی کسان کے خاندان کے غمزدہ افرد سے ملاقات کیلئے عہدیداروں کی 3 رکنی کمیٹی تشکیل دی جائے اور یہ یقینی بنایا جائے کہ خودکشی کرلینے والے کسان کے لواحقین کو فی کس 1.5 لاکھ روپئے معاوضہ اور بچوں کی تعلیم کیلئے الاونس بھی دیا جائے لیکن گذشتہ 2 ماہ کے دوران 100 سے زائد کسانوں کی خودکشی کے بعد بھی حکومت نے اس سنگین مسئلہ کی جانب توجہ نہیں دی ہے۔ تلنگانہ میں گذشتہ 3 سال سے مسلسل کپاس کی فصل کو نقصان ہورہا ہے جبکہ کسانوں کے قرضوں کو معاف کرنے کا دعوی کرتے ہوئے ٹی آر ایس نے اقتدار حاصل کیا تھا ۔ بارش کی کمی کی وجہ سے صورتحال نازک ہورہی ہے۔ حالیہ دنوں میں ہوئی بارش 5 اگست تک 48 فیصد بتائی گئی ہے جبکہ گذشتہ کے مقابل 19 فیصد بارش کی کمی ہے۔