تلنگانہ میں تلگو دیشم کو مضبوط بنانے سیاسی اتحاد پر غور

پارٹی کا ایک گروپ ٹی آر ایس سے اتحاد کا حامی ، دوسرا گروپ کانگریس سے ہاتھ ملانے کا خواہاں
حیدرآباد۔17اپریل(سیاست نیوز) تلنگانہ میں تلگو دیشم پارٹی اپنے مستقبل کو تابناک بنانے کے لئے ریاست میں سیاسی حلیف تلاش کر رہی ہے اور اس سلسلہ میں تلگودیشم پارٹی قائدین دو حصوں میں منقسم ہوگئے ہیں ۔ ریاستی صدر تلنگانہ تلگودیشم پارٹی مسٹر ایل رمنا اور ان کے گروپ کا ماننا ہے کہ تلگو دیشم پارٹی کو ریاست تلنگانہ میں تلنگانہ راشٹر سمیتی کے ساتھ اتحاد کرنا چاہئے جبکہ مسٹر آر چندرشیکھر ریڈی اور مسٹر آر پرکاش ریڈی اور ان کے حامیوں کا کہناہے کہ تلنگانہ میں تلگو دیشم پارٹی کو کانگریس کے ساتھ اتحاد کرنا چاہئے کیونکہ تلنگانہ میں اپوزیشن مستحکم ہوتی جا رہی ہے اور برسراقتدار کا مستقبل تابناک نظر نہیں آرہا ہے۔ صدر تلگو دیشم و چیف منسٹر آندھرا پردیش مسٹر این چندرا بابو نائیڈونے تاحال اس سلسلہ میں کوئی بات نہیں کی ہے لیکن تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے قائدین کی جانب سے پارٹی کے ریاست میں مستقبل کے سلسلہ میں حکمت عملی تیار کی جانے لگی ہے۔ بتایا جاتاہے کہ دونوں گروپس کے ذمہ دار سرکردہ قائدین بہت جلد چیف منسٹر آندھرا پردیش سے ملاقات کرتے ہوئے صورتحال سے واقف کروانے کی منصوبہ بندی میں مصروف ہیں اب جبکہ 2019عام انتخابات کے لئے صرف ایک سال کا عرصہ رہ گیا ہے ایسے میں تلگو دیشم پارٹی تلنگانہ میں جاری یہ سرگرمیاں انتہائی اہمیت کی حامل ہوچکی ہیں ۔ باوثوق ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق مسٹر ایل رمنا نے تلنگانہ راشٹرسمیتی سے اتحاد کی تائید میں اپنی رپورٹ تیار کرلی ہے جو وہ پارٹی صدر مسٹر نائیڈو کے حوالہ کریں گے۔ بتایاجاتاہے کہ انہوں نے رپورٹ میں اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ تلنگانہ کی تشکیل کے بعد تلنگانہ راشٹر سمیتی میں شمولیت اختیار کرنے والے بیشتر تلگو دیشم قائدین ہیں جو کہ کافی اثر رکھتے ہیں اسی لئے پارٹی کو دوبارہ سرگرم ہونے اور ریاست میں اپنا مستقبل تابناک بنانے میں کوئی مشکل نہیں ہوگی اور تلنگانہ میں تلگو دیشم پارٹی کو کافی مقبولیت حاصل ہوگی جبکہ کانگریس سے انتخابی مفاہمت کی تائید کرنے والے گروپ کا استدلال ہے کہ ریاست تلنگانہ میں تلنگانہ راشٹر سمیتی کی گرفت کمزور ہوتی جا رہی ہے اور کانگریس کی جانب سے کامیاب انداز میں یاترا نکالتے ہوئے حکومت کی ناکامیوں کا پردہ فاش کیا جانے لگا ہے تو ایسی صورت میں عوام میں حکومت اور برسراقتدار جماعت کے خلاف ناراضگی میں اضافہ ہوتا جا رہاہے اور اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے تلگو دیشم پارٹی کو تلنگانہ میں کانگریس سے انتخابی مفاہمت کرنی چاہئے ۔ دونوں گروپس کے موقف کے سلسلہ میں صدر تلگو دیشم کو واقف کروائے جانے کے بعد ہی اس معاملہ میں قطعی فیصلہ کیا جانے کا امکان ہے ۔ پارٹی ذرائع کے مطابق تلگو دیشم پارٹی کے بھارتیہ جنتا پارٹی سے اتحاد کے خاتمہ کے ساتھ ہی دیگر سیاسی جماعتوں کے قائدین تلگودیشم پارٹی کے سرکردہ قائدین سے رابطہ کرنے لگے ہیں اور کہا جا رہاہے کہ بہت جلد تلنگانہ اور آندھراپردیش میں تلگودیشم پارٹی اپنی حلیف سیاسی جماعت کا انتخاب کرے گی اور پارٹی کیڈر کو اتحادی جماعت کے ساتھ متحرک ہوتے ہوئے عوام کے درمیان پہنچنے کی ہدایت جاری کرے گی۔ پارٹی کے بعض ذرائع کا کہناہے کہ ریاست تلنگانہ میں تلگو دیشم پارٹی قائدین کی جانب سے دیگر سیاسی جماعتوں سے اتحاد کی بات کی جا رہی ہے جبکہ پارٹی کے بعض سرکردہ قائدین کا کہناہے کہ تلنگانہ میں تلگودیشم کے کارکن اور پارٹی کے حق میں رائے دہی کرنے والے عوام کی بڑی تعداد موجود ہے جنہیں تلگو دیشم پر اعتماد ہے اسی لئے تلگو دیشم پارٹی کو کسی سیاسی جماعت سے اتحاد کے بجائے تلنگانہ میں تنہاء مقابلہ پر ہی غور کرنا چاہئے ۔