تلنگانہ میں برقی قلت سے نمٹنے راماگنڈم میں پلانٹ

حیدرآباد۔ 8؍جولائی (سیاست نیوز؍ پی ٹی آئی)۔ سرکاری شعبہ کا ادارہ نیشنل تھرمل پاور کارپوریشن (این ٹی پی سی) مجوزہ 4,000 میگا واٹ توانائی پلانٹ کے لئے توقع ہے کہ ریاست تلنگانہ کے علاقہ رام گنڈم میں اپنی پہلی یونٹ پر فی الفور کام کا آغاز کردے گا۔ این ٹی پی سی کے سربراہ اروپ رائے چودھری نے آج یہاں تلنگانہ کے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ سے ملاقات کی اور دونوں نے پلانٹ کی تفصیلات پر تبادلہ خیال کیا۔ این ٹی پی سی کے چیرمین نے کہا کہ پہلی یونٹ پر فی الفور کام شروع کیا جائے گا اور اندرون 39 ماہ تکمیل کی جائے گی۔ اس یونٹ کے قیام کے لئے درکار ماحولیاتی منظوری حکومت تلنگانہ سے حاصل کی جائے گی۔ اروپ رائے نے کہا کہ رام گنڈم این ٹی پی سی کے موجودہ 2,600 میگا واٹ پلانٹ سے متصل اس پلانٹ کا قیام متوقع ہے۔ حکومت تلنگانہ کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ چیف منسٹر نے دستیاب اراضی سے اس پلانٹ کے لئے درکار اراضی کی فراہمی یا پھر سنگارینی کالریز سے اراضی حاصل کرتے ہوئے اس ادارہ کو اراضی فراہم کرنے سے اتفاق کیا ہے۔ این ٹی پی سی کے ایک سینئر عہدیدار نے قبل ازیں کہا تھا کہ پہلی یونٹ پر فی الفور کام شروع کردیا جائے گا، کیونکہ برقی پیدا کرنے والا یہ ادارہ 800 میگا واٹ کے پلانٹس کرنے کا پہلے ہی اعلان کرچکا تھا۔ ریاستی سکریٹریٹ میں صدرنشین و منیجنگ ڈائریکٹر این ٹی پی سی مسٹر اروپ رائے چودھری کی قیادت میں ایک وفد نے چیف منسٹر تلنگانہ مسٹر کے چندر شیکھر راؤ سے ملاقات کی۔ اس وفد میں مسرس آپریشنس ڈائریکٹر این ایس مشرا، ٹیکنیکل ڈائریکٹر این ٹی پی سی مسٹر اے کے جھا، ایگزیکٹیو ڈائریکٹر سدرن گرڈ این ٹی پی سی مسٹر آر وینکٹیشورلو شامل تھے۔ دورانِ گفتگو یہ بھی کہا گیا کہ نہ صرف کوئلہ، پانی بلکہ تمام تر بنیادی سہولتیں اور برقی سربراہی کے لئے درکار لائینس بھی راماگنڈم میں تیار ہیں۔ اس بات چیت کے موقع پر تلنگانہ جینکو کے صدرنشین مسٹر ڈی پربھاکر راؤ، پرنسپال سکریٹری محکمہ توانائی مسٹر سریش چندرا، پرنسپال سکریٹری برائے چیف منسٹر مسٹر نرسنگ راؤ، ایڈیشنل سکریٹری برائے چیف منسٹر شریمتی سمیتا سبھروال، اسپیشل سکریٹری مسٹر راج شیکھر ریڈی و دیگر عہدیدار بھی موجود تھے۔ اس دوران این ٹی پی سی آندھرا پردیش کے ضلع گنٹور میں مسابقتی بڈنگ کے ذریعہ 300 میگا واٹ کا شمسی توانائی پلانٹ قائم کرے گا تاکہ یہ ریاست کم شرحوں پر شمسی توانائی حاصل کرسکے۔ این ٹی پی سی کے چیرمین و منیجنگ ڈائریکٹر اروپ رائے نے آج یہاں آندھرا پردیش کے چیف منسٹر این چندرابابو نائیڈو سے ملاقات کے دوران یہ اعلان کیا۔ چندرابابو نائیڈو نے ان سے درخواست کی کہ ضلع وشاکھاپٹنم کے پوڈی مڈاکا میں 4,000 میگا واٹ کے مجوزہ پلانٹ کے کام پر پیشرفت کی جائے۔ ایک سرکاری بیان کے مطابق پرنسپال سکریٹری (صنعت) کو ہدایت کی گئی ہے کہ اندرون پندرہ یوم مقررہ جگہ کو قطعیت دی جائے تاکہ عوامی شعبہ کا یہ ادارہ اس پراجکٹ کے قیام پر پیشرفت کرسکے۔ چیف منسٹر چندرابابو نائیڈو نے مہارتنا کمپنی سے یہ درخواست بھی کی کہ وشاکھاپٹنم کے سمہادری ٹاؤن میں این ٹی پی سی تھرمل پلانٹ پر پندرہ دن کے لئے کافی ہونے والا کوئلہ کا ذخیرہ تعمیر کیا جائے۔ اروپ چودھری نے چندرابابو نائیڈو کو مطلع کیا کہ آندھرا پردیش میں برقی کی قلت سے نمٹنے کے لئے این ٹی پی سی جھجر (ہریانہ) سے 200 میگا واٹ اور این ٹی پی سی بارہ (بہار) سے 100 میگا واٹ برقی اس ریاست کو فی الفور سربراہ کی جائے گی۔