تلنگانہ میں برقی بحران سے نمٹنے شمسی توانائی کے استعمال کیلئے پالیسی تیار

اسٹامپ ڈیوٹی کی معافی اور دیگر رعایتوں کی پیشکش، ویاٹ کی واپسی یقینی
حیدرآباد ۔ 19 مئی (سیاست نیوز) ریاست تلنگانہ میں برقی بحران سے نمٹنے کیلئے حکومت نے شمسی توانائی کے استعمال کے متعلق اپنی پالیسی تیار کرلی ہے اور سرکاری پالیسی کے مطابق شمسی توانائی سے چلائی جانے والی صنعتوں کو 10 فیصد ویاٹ کی واپسی یقینی بنانے کا اعلان کیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں حکومت نے شمسی توانائی کے استعمال کے فروغ کیلئے اسٹامپ ڈیوٹی کی معافی کا بھی اعلان کیا ہے۔ حکومت تلنگانہ کی جانب سے ریاست میں شمسی توانائی کے فروغ کیلئے پیداوار کو یقینی بنانے اور سولار سسٹم کی تنصیب کے ذریعہ دوسرے ذرائع سے حاصل کی جانے والی برقی استعمال میں تخفیف کرنے والوں کو کئی فائدے دینے کا اعلان کیا ہے۔ حکومت کے منصوبہ کے مطابق جو صنعتیں برقی پیداوار و استعمال کیلئے شمسی توانائی کا استعمال کرنا چاہتے ہیں، ان کی درخواستوں کی یکسوئی کیلئے حکومت سنگل ونڈو سسٹم کے ذریعہ انہیں جلد از جلد منظور کرنے کے اقدامات کرے گی۔ علاوہ ازیں سولار پراجکٹ کے ذریعہ برقی استعمال کو یقینی بنانے والوں کو 5 سال تک کمرشیل ٹیکس کی جانب سے ویاٹ کی 100 فیصد واپسی یقینی بنانے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔ سوالار پاور پراجکٹ کی تعمیر کیلئے جائیداد کی خریدی کی صورت میں محکمہ صنعت کی جانب سے 100 فیصد اسٹامپ ڈیوٹی کی واپسی کا اعلان کیا گیا ہے تاکہ ریاست میں سولار پارک کی تعمیر کو یقینی بنایا جاسکے۔ سولار پاور پراجکٹس کیلئے حکومت کی جانب سے دی جانے والی ان ترغیبات کے بعد ریاست تلنگانہ میں برقی مسئلہ سے نمٹنے کیلئے مختلف کمپنیوں کی جانب سے سولار پراجکٹس میں سرمایہ کاری کی توقع کی جارہی ہے۔ حکومت تلنگانہ کی اس پالیسی کے بعد پڑوسی ریاست آندھراپردیش کی جانب سے بھی نئی پالیسی مدون کئے جانے کا امکان ہے کیونکہ ریاست آندھراپردیش میں بھی شمسی توانائی کے فروغ کیلئے منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔ علاوہ ازیں دونوں ریاستیں قابل تجدید توانائی کے استعمال کو فروغ دینے کیلئے حکمت عملی کی تیاری میں مصروف ہیں۔حکومت کی جانب سے فاضل اراضی کی صورت میں بھی لینڈ سیلنگ قوانین سولار پاور پراجکٹ کی تعمیر کیلئے جائیدادوں پر نہ لگائے جانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ حکومت تلنگانہ مرکزی حکومت سے بھی سولار پراجکٹس کی صنعت میں سرمایہ کاری کرنے والوں کیلئے مزید مراعات کی فراہمی کے متعلق منصوبہ بندی کررہی ہے۔