چیف منسٹر کے سی آر کی معنی خیز خاموشی پر تنقید، محمد علی شبیر کا بیان
حیدرآباد /16 اپریل (سیاست نیوز) قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز کونسل محمد علی شبیر نے تلنگانہ میں ایگریکلچر ایمرجنسی کے نفاذ کا ٹی آر ایس حکومت سے مطالبہ کیا۔ آج گاندھی بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ریاست میں غیر موسمی بارش نے بڑی تباہی مچائی ہے، جب کہ متاثرین کی امداد کے معاملے میں ریاستی اور مرکزی حکومتیں ناکام ہو گئی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ قبل ازیں کسانوں کو پانی اور برقی کی قلت کے سبب بھاری نقصان اٹھانا پڑا اور اب غیر موسمی بارش نے تباہی مچائی ہے، اس طرح تقریباً ایک لاکھ ہیکٹر اراضی پر کاشت کی گئی فصلوں کو نقصان پہنچا۔ انھوں نے کہا کہ اس سلسلے میں چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی خاموشی معنی خیز ہے، جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ انھوں نے کہا کہ اتنے زیادہ نقصانات کے باوجود چیف منسٹر نے اب تک ڈیزاسٹر مینجمنٹ کمیٹی کا اجلاس طلب نہیں کیا کہ نقصانات کا جائزہ لیا جاسکے، جس سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ چیف منسٹر کسانوں کو دشمن کی نظر سے دیکھ رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ جی او 421 کے تحت خودکشی کرنے والے کسانوں کے ارکان خاندان کو ٹی آر ایس حکومت نے ایکس گریشیا نہیں دیا، جب کہ چیف منسٹر تلنگانہ ریاست کو قدرتی وسائل سے مالا مال قرار دے رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ وعدہ کے مطابق کسانوں کے قرضہ جات معاف نہیں کئے گئے اور بینکوں کی جانب سے کسانوں کو قرضہ جات بھی نہیں دیئے جا رہے ہیں۔ انھوں نے غیر موسمی بارش کے نقصانات کا جائزہ لینے کے لئے مرکزی وزرا کے دورہ کو بے فیض قرار دیتے ہوئے کہا کہ بی جے پی زیر قیادت این ڈی اے حکومت مخالف مفادات کسان بل کے ذریعہ کسانوں کو نقصان پہنچا رہی ہے اور اب نقصانات کا جائزہ لینے کے نام پر مگر مچھ کے آنسو بہا رہی ہے، جس کی کانگریس پارٹی سخت مذمت کرتی ہے۔ اس موقع پر ایم کونڈا ریڈی اور پی سدھاکر ریڈی بھی موجود تھے۔