تلنگانہ میں ایمسیٹ 2015 کا انعقاد ، کئی امیدوار تاخیر کے باعث شریک امتحان سے محروم

مراکز کے انچارجس سے بحث و مباحث ، خصوصی بسوں کے باوجود متبادل سواریوں کو ترجیح
حیدرآباد ۔ 14 ۔ مئی : ( این ایس ایس ) : دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد کے علاوہ ریاست تلنگانہ کے مختلف اضلاع میں آج اُس وقت گہما گہمی دیکھی گئی جب ریاست میں پہلی مرتبہ ایمسیٹ 2015 کا انعقاد عمل میں آیا ۔ کنوینر ایمسیٹ نے پہلے ہی ایک منٹ تاخیر سے آنے پر امتحانی مراکز میں داخلہ کی قطعی اجازت نہ دینے کا اعلان کیا تھا جس پر سختی سے عمل درآمد کیا گیا جس کے باعث کئی امیدواروں کو ایمسیٹ میں شرکت سے محروم ہونا پڑا ۔ تلنگانہ ریاست میں 13 مارچ تک آر ٹی سی کی ہڑتال سے امیدوار اور ان کے سرپرستوں نے سواریوں کا متبادل انتظام کرلیا تھا آج آر ٹی سی بسوں کی بحالی کے باوجود سینکڑوں طلبہ نے اپنے طور پر متبادل گاڑیوں کے ذریعہ سنٹرس کو پہونچے ۔ اگرچہ کہ آر ٹی سی نے 600 عدد خصوصی طور پر بسوں کا انتظام کیا تھا لیکن امیدواروں نے اس کو ترجیح نہیں دی ۔ اس کی وجوہات میں ٹریفک رکاوٹ تو دوسری جانب میٹرو ٹرین پراجکٹ کے جگہ جگہ رکاوٹوں سے انہیں تاخیر ہونے کے خدشات تھے ۔ تفصیلات کے بموجب جے این ٹی یو کے زیر اہتمام منعقدہ ایمسیٹ میں ریاست گیر سطح سے 2.31 امیدواروں نے درخواستیں داخل کیں تھیں ۔ حیدرآباد شہر سے ایک لاکھ 39 ہزار 636 امیدواروں نے صبح کے وقت انجینئرنگ اسٹریم جب کہ 92 ہزار 362 امیدواروں نے دوپہر کے سیشن میں میڈیکل و اگریکلچر اسٹریم کے ایمسیٹ میں شرکت کی جس کے لیے 111 مراکز کا قیام عمل میں لایا گیا تھا ۔ کئی مراکز پر امیدوار اور ان کے سرپرستوں نے مراکز کے ذمہ داروں سے داخلہ کی اجازت نہ دینے پر الجھ پڑے کیوں کہ تمام مراکز پر ایک منٹ کے بعد باب الداخلوں کو بند کر کے سیکوریٹی کو متعین کردیا تھا ۔ جس کے باعث بہت سارے امیدواروں کو داخلہ کی قطعی اجازت نہیں دی گئی ۔ ذرائع کے بموجب ضلع نلگنڈہ کے کوداڑ کے چلکور میں تین امیدواروں کو تاخیر کی وجہ بتاکر امتحان میں شرکت کی اجازت نہیں دی گئی ۔ اسی دوران پتہ چلا کہ اس امتحان میں 1,28,174 امیدواروں نے شرکت کی جب کہ 11,058 امیدوار غیر حاضر رہے ۔ جس کا فیصد 91.76 رہا ۔ تمام مراکز پر امتحان پرامن طریقہ سے منعقد کیا گیا ۔۔