تلنگانہ میں ایمسیٹ امتحان پر طلبہ تشویش کا شکار

آندھرا پردیش ریاست سے چیلنج ممکن ، حکومت تلنگانہ کا عنقریب فیصلہ
حیدرآباد۔ 16 نومبر ( سیاست نیوز) ریاست کی تقسیم کے بعد اعلی تعلیم کے حصول کے خواہشمند بالخصوص مسابقتی امتحانات میں کامیابی حاصل کرتے ہوئے نشستیں حاصل کرنے والے طلبہ ذہنی تناؤ کا شکار بنے ہوئے ہیں ۔ ریاست کی تنظیم جدید بل میں دس سال تک کا جو موقع آندھراپردیش کو فراہم کیا گیا حکومت آندھرا اس موقع سے بھرپور استفادہ کرنے کی کوشش میں ہے جبکہ حکومت تلنگانہ کی جانب سے ریاست تلنگانہ تشکیل کے بعد ریاست کے عوام کے مفادات کے تحفظ کے لئے کوششیں کی جا رہی ہیں ۔ایمسٹ جیسے مسابقتی امتحان کے تعلق سے ایک مرتبہ پھر طلبہ تشویش کا شکار بنے ہوئے ہیں ۔ حکومت تلنگانہ ریاست تلنگانہ علحدہ ایمسٹ امتحانات منعقد کرتے ہوئے ریاست کے طلبہ کو ریاست میں نشستوں کی فراہمی و داخلوں میں سہولت کے متعلق منصوبہ بندی کر رہی ہے جبکہ حکومت آندھراپردیش کی جانب سے تلنگانہ کی جانب سے علحدہ ایمسٹ کے انعقاد کے منصوبہ کو چیالنج کئے جانے کا امکان ہے ۔ تلنگانہ ریاستی کونسل برائے اعلی تعلیم کے اعلی عہدیداروں کا کہنا ہیکہ حکومت تلنگانہ کی جانب سے ریاست تلنگانہ میں موجود کالجس میں تلنگانہ طلبہ کے داخلوں کو یقینی بنانے کے لئے علحدہ ایمسٹ امتحان کے متعلق سنجیدہ اقدامات کئے جا رہے ہیں ۔ لیکن حکومت کے ان اقدامات پر قانونی رسہ کشی کی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ ہے ۔ چونکہ ریاست کی تنظیم جدید بل میں موجودہ طریقہ کار کو دس سال تک جوں کا توں رکھنے کی گنجائش فراہم کی گئی ہے ۔ بتایا جاتا ہیکہ آئندہ چند ہفتوں میں حکومت تلنگانہ کی جانب سے مسئلہ کے حل کے لئے ریاستی کونسل برائے اعلی تعلیمات کے عہدیداروں کے علاوہ محکمہ تعلیم کے عہدیداروں کا اجلاس طلب کرتے ہوئے اس کا قطعی فیصلہ کیا جائیگا کہ ریاست میں علحدہ ایمسٹ منعقد کیا جائیگا یا موجودہ طریقہ کار کو برقرار رکھتے ہوئے ایمسٹ کا انعقاد عمل میں لایا جائیگا ۔ حکومت تلنگانہ کی جانب سے علحدہ ایمسٹ کے انعقاد کی صورت میں حکومت ریاست کے طلبہ کو داخلوں کے حصول میں آسانیاں پیدا ہوں گی اور مسابقتی امتحانات میں بہتر نتائج کے ذریعہ وہ اچھے کالجس میں داخلہ حاصل کرنے کے موقف میں رہیں گے ۔