تلنگانہ میں آج جامع گھر گھر سروے

عوام کو مکانات میں دستیاب رہنے کی ہدایت‘ رضاکارانہ طور پر خاندانی تفصیلات پیش کرنے کا مشورہ
حیدرآباد ۔ 18 اگست ۔ ( سیاست نیوز)ٹی آر ایس حکومت نے ریاست تلنگانہ میں 19اگست کو گھر گھر سروے پروگرام کیلئے وسیع تر انتظامات مکمل کرلئے ہیں ۔ جبکہ ریاست بھر میں ایک کروڑ خاندانوں کا احاطہ کرنے کیلئے حکومت نے 3.7لاکھ ملازمین کی خدمات حاصل کی ہیں ۔ سرکاری ذرائع کے مطابق ضلع نلگنڈہ میں 10.42 لاکھ خاندانوں کے سروے کیلئے 35ہزار ملازمین‘ ضلع نظام آباد میں 7.5لاکھ خاندانوں کیلئے 28ہزار ملازمین ‘ ضلع کھمم میں 8.77 لاکھ خاندانوں کیلئے 29ہزار ملازمین‘ ضلع کریم نگر میں 9.86 خاندانوں کیلئے 34ہزار ملازمین ‘ ضلع ورنگل کیلئے 10.15 لاکھ خاندانوں کیلئے 43ہزار ملازمین‘ ضلع محبوب نگر میں 9.94 لاکھ خاندانوں کیلئے 39ہزار ملازمین ‘ ضلع میدک میں 7.56 لاکھ خاندانوں کیلئے 30ہزار ملازمین ‘ ضلع عادل آباد میں 7.47 لاکھ خاندانوں کیلئے 28ہزار ملازمین کو متعین کیا گیا ہے ۔ دریں اثناء چیف منسٹر تلنگانہ مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے عوام سے پُرزور اپیل کی ہیکہ شمارکنندہ جب گھر آئے تو صحیح معلومات فراہم کریں۔ انہوں نے بتایا کہ ریاست کے 10اضلاع میں گھر گھر سروے پروگرام کیلئے وسیع تر انتظامات کئے گئے ہیں ۔ چیف منسٹر نے یہ اعادہ کیا کہ سروے فراہم معلومات کی بنیاد پر حکومت اسکیمات کو ترتیب اور منصوبہ بندی کی جائے گی جس کے پیش نظر عوام کے سماجی و معاشی حالات کا صحیح صحیح پتہ چلانا ضروری ہے تاکہ مستحق افراد تک سرکاری اسکیمات کے فوائد پہنچ سکے ۔ انہوں نے اس خصوص میں عوام سے سرگرم تعاون کی خواہش کی ہے جبکہ ریاست تلنگانہ میں جامع سروے کے سلسلے میں 19 اگست کو تمام خدمات مفلوج رہیں گی ۔ علاوہ ازیں تفریح گاہوں کو بھی عام تعطیل ہوگی ۔ شہر و اضلاع کے سینما گھروں میں بھی مارننگ اور میٹنی شوز نہیں چلائے جائیں گے ۔ شہر کے بیشتر پٹرول پمپ بھی 19 اگست کو بند رکھے جائیں گے تاکہ ہر شہری کو سروے میں حصہ لینے کا موقع حاصل ہوسکے ۔ چونکہ سروے پروگرام کیلئے اساتذہ کی خدمات حاصل کی گئی ہیں جس کے باعث تعلیمی اداروں کو بھی بند رکھا جائے گا۔ ریاست تلنگانہ کے شہریوں کے سماجی و معاشی موقف کے ساتھ ساتھ ریاست کی مجموعی حالت کے متعلق آگہی کیلئے کروائے جانے والے اس سروے کو حکومت کی جانب سے دی جانے والی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ حکومت نے تعطیل عام کا اعلان کرتے ہوئے اس سروے کے متعلق باضابطہ شعور بیداری مہم بھی چلائی ہے۔ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے حدود میں گزشتہ تین یوم سے جاری سروے کے دوران تقریباً شہر کا احاطہ کرلیا گیا ہے اور 19 اگست کو قطعی سروے کیا جائے گا۔ مسٹر سومیش کمار کمشنر مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد نے آج پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کہا کہ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے حدود میں سروے کے تمام انتظامات مکمل کرلئے گئے ہیں اور سروے میں حصہ لینے کے متعلق عوام میں جوش و خروش دیکھا جارہا ہے ۔
انھوں نے بتایا کہ سروے میں عہدیدار کسی درمیانی فرد کی مدد حاصل نہیں کریں گے اور اس طرح کی شکایات موصول ہونے پر سخت گیر کارروائی کی جائے گی ۔ مسٹر سومیش کمار نے عوام سے اپیل کی کہ وہ رضاکارانہ طورپر اس سروے میں حصہ لیں اور سروے کے دوران مکمل تفصیلات کے اندراج سے غفلت نہ کریں چونکہ یہ سروے تلنگانہ اور تلنگانہ کے عوام کے بہتر مستقبل میں معاون ثابت ہوگا۔ کمشنر مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد نے بتایا کہ گزشتہ دو روز کے دوران کئے گئے سروے میں جو اطلاعات موصول ہوئی ہیں ، وہ انتہائی حوصلہ افزاء ہیں اور عوام سروے میں حصہ لینے میں دلچسپی کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ سروے میں حصہ لینا لازمی نہیں ہے لیکن رضاکارانہ طورپر اُس میں حصہ لینے سے بہتر مستقبل کی توقع کی جاسکتی ہے ۔ انھوں نے بتایا کہ شمارکنندگان کو کوئی دستاویزات کی نقولات فراہم کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ جو نقولات ساتھ رکھنے کی ہدایات دی جارہی ہے وہ صرف آپ کی سہولت کے لئے ہے تاکہ آپ بروقت تفصیلات کی فراہمی کے متحمل رہیں۔ انھوں نے مزید بتایا کہ جی ایچ ایم سی کے حدود میں کروائے جانے والے اس سروے کو مستقبل قریب میں ڈیٹا بیس (مواد ) کا حصہ بنایا جائے گا اور مستقبل میں اس کی بنیاد پر ہی اجازت نامے وغیرہ جاری کرنے کے متعلق منصوبہ تیار کیا جائے گا ۔ انھوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ سروے کے متعلق خوفزدہ نہ ہوں چوں کہ سروے کے ذریعہ ریاست اپنے مستقبل کا تعین کررہی ہے ۔ مسٹر سومیش کمار نے یہ واضح کیا کہ اس سروے کے ذریعہ سطح غربت کا اندازہ نہیں لگایا جارہا ہے اور نہ ہی یہ سطح غربت سے نیچے زندگی گذارنے والوں کیلئے کیا جانے والا سروے ہے بلکہ یہ سروے ہر شہری کو شمار کرتے ہوئے اُس کی تفصیلات و موقف کی جانکاری کے حصول کیلئے کیا جارہا ہے ۔ انھوں نے بتایا کہ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے حدود میں 20,000 شمار کنندگان کی خدمات حاصل کی جارہی ہے اور 40,000 اُن کے معاونین سروے میں اُن کی مدد کررہے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ تاحال مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے حدود میں 21,000 مکانات مقفل پائے گئے ہیں جبکہ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے حدود میں ڈھائی لاکھ نئے مکانات تعمیر ہونے کی تفصیلات موصول ہوئی ہیں۔ انھوں نے مزید بتایا کہ سروے کے دوران عوام کو چاہئے کہ وہ جس مقام پر ہیں وہیں پر اپنا اندراج کروائیں چونکہ اندراج کے مقام اور دستاویزات کے پتوں میں یکسانیت نہ ہونے کے باعث عوام میں بیچینی پائی جاتی ہے ۔ مسٹر سومیش کمار نے واضح کیا کہ سروے کے ذریعہ حکومت کے منصوبوں کی تیاری میں مدد حاصل ہوگی اور حکومت مستقبل میں تلنگانہ کو عالمی سطح پر ترقی دینے کے منصوبوں کی تیاری میں اس سروے کے ذریعہ مدد حاصل کرے گی ۔ کمشنر مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد نے وضاحت کی ہے کہ جو لوگ بینک کھاتوں اور دیگر تفصیل نہ لکھانے چاہتے ہیں اُن پر کوئی زبردستی نہیں ہوگی لیکن شہریوں کو چاہئے کہ وہ تفصیلات کی فراہمی کو اپنی ذمہ داری تصور کریں تاکہ مجموعی ترقی میں اُن کا بھی کردار برقرار رہے۔ انھوں نے بتایا کہ سروے کے لئے شمارکنندگان کو تلگو ، اردو اور انگریزی میں فارمس سربراہ کئے گئے ہیں۔ انھوں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس سروے کے دوران شمارکنندگان سے تعاون کرتے ہوئے مستقبل میں تیار ہورہے ہیں ڈاٹا (مواد ) کا حصہ بنیں ۔ انھوں نے بتایا کہ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے تمام تر انتظامات مکمل کرلئے گئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ 19 اگست کو کئے جانے والے سروے میں کسی وجہ سے حصہ نہ لینے والوں سے متعلق حکومت کی پالیسی ابھی منظرعام پر نہیں آئی ہے اسی لئے حتی الامکان یہی کوشش کی جانی چاہئے کہ سروے میں جہاں تک ممکن ہوسکے حصہ لیا جائے ۔