تلنگانہ میں اقلیتی اداروں پر آئندہ ماہ تقررات کا امکان

چیف منسٹر کے سی آر کی ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی سے مشاورت
حیدرآباد۔17۔ڈسمبر (سیاست نیوز) تلنگانہ میں اقلیتی اداروں پر تقررات آئندہ دو ماہ میں مکمل کرلئے جائیں گے۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے اس مسئلہ پر ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی سے بات چیت کی۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر نے اقلیتی اداروں پر مستحق اور قابل افراد کے تقرر کے سلسلہ میں تجاویز طلب کی ہیں۔ چیف منسٹر چاہتے ہیں کہ اردو اکیڈیمی ، وقف بورڈ ، اقلیتی فینانس کارپوریشن اور حج کمیٹی پر تقررات مرحلہ وار انداز میں مکمل کرلئے جائیں۔ اقلیتی کمیشن کی تشکیل میں کسی قدر تاخیر ہوسکتی ہے کیونکہ اس کی تقسیم کا مرحلہ مکمل نہیں ہوا اور کمیشن سے متعلق بعض معاملات ہائیکورٹ میں زیر دوران ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق چیف منسٹر نے جناب محمود علی کو ذمہ داری دی کہ وہ اداروں اور ان کے لئے موزوں افراد کی فہرست انہیں پیش کریں۔ عہدوں کیلئے انتخاب میں پارٹی کے ان قائدین کو ترجیح دی جائے گی جو گزشتہ 14 برسوں سے پارٹی سے وابستہ رہے اور جنہوں نے تلنگانہ تحریک میں سرگرمی سے حصہ لیا۔ شہر کے علاوہ اضلاع سے تعلق رکھنے والے پارٹی قائدین اور کارکنوں کے ناموں پر غور کیا جائے گا۔ ذرائع نے بتایا کہ اقلیتی اداروں پر تقررات کو قطعیت دینے سے قبل شہر کی مقامی سیاسی جماعت سے بھی مشاورت کی جائے گی جو ٹی آر ایس کی حلیف بن چکی ہے۔ بعض اداروں پر مقامی جماعت اپنے نمائندوں کے تقرر کی خواہاں ہے۔ تاہم چیف منسٹر زیادہ عہدوں پر ٹی آر ایس قائدین کے تقرر میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ ٹی آر ایس قائدین کے علاوہ تحریک میں حصہ لینے والے بعض غیر سیاسی اور مذہبی و سماجی قائدین بھی عہدوں کیلئے دوڑ دھوپ کر رہے ہیں ، جس کے باعث پارٹی کے قائدین میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ چیف منسٹر کے قریبی ذرائع کے مطابق پارٹی سے وابستہ رہنے والے افراد کو عہدوں کیلئے ترجیح دی جائے گی۔ واضح رہے کہ گزشتہ چند ماہ سے اقلیتی اداروں کے عہدوں کیلئے ٹی آر ایس قائدین اور بعض مذہبی و سماجی شخصیتوں میں زبردست دوڑ دھوپ دیکھی جارہی ہے۔ چیف منسٹر نے تلنگانہ پبلک سرویس کمیشن میں اقلیتی نمائندے کی شمولیت کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلہ میں کئی نام چیف منسٹر کو پیش کئے گئے تاہم ذرائع کے مطابق چیف منسٹر نے ایک نام کو منظوری دیدی ہے اور اسے انتہائی راز میں رکھا گیا ہے۔ چیف منسٹر غیر اقلیتی اداروں میں بھی کم از کم ایک مسلم نمائندگی کو یقینی بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ مارکٹ کمیٹیوں کی تشکیل کے موقع پر اقلیتوں کو مناسب نمائندگی دی جائے گی اور ہر ضلع میں کم از کم ایک مارکٹ کمیٹی کے صدر یا ڈائرکٹر کے عہدہ پر اقلیتی نمائندہ کا تقرر کیا جائے گا۔ چیف منسٹر نے اپنے دفتر کے عہدیداروں سے اقلیتی اداروں میں موجود ڈائرکٹرس کی تعداد سے متعلق تفصیلات حاصل کرلی ہیں۔