وزیر کمرشیل ٹیکسس سرینواس یادو کا بائیکاٹ ، حکومت سے وضاحت کا مطالبہ
حیدرآباد 10 مارچ (سیاست نیوز)تلنگانہ قانون ساز کونسل میں کانگریس اور تلگودیشم نے وزیر کمرشیل ٹیکسس سرینواس یادو کا بائیکاٹ کرتے ہوئے ایوان سے واک آوٹ کردیا ۔ دونوں جماعتوں کے ارکان سرینواس یادو کی رکنیت کے بارے میں صدر نشین سے وضاحت طلب کررہے تھے۔ تنازعہ اس وقت شروع ہوا جب وقفہ سوالات میں سرینواس یادو کمرشیل ٹیکسس سے متعلق سوال کا جواب دینے کیلئے اٹھے ۔ تلگودیشم کے فلور لیڈر نرسا ریڈی اور ناگیشور راو نے اعتراض کیا اور کہا کہ سرینواس یادو کس طرح وزیر کی حیثیت سے برقرار ہیں۔ آخر وہ کس پارٹی کے رکن ہیں۔ اس سلسلہ میں صدر نشین کونسل سوامی گوڑ کو وضاحت کرنی چاہئے ۔ ارکان کا کہنا تھا کہ تلگودیشم پارٹی کے رکن کی حیثیت سے وہ وزارت میں کس طرح برقرار ہیں۔ وزیر امور مقننہ ہریش راو نے کہا کہ سرینواس یادو کے استعفی کا مسئلہ اسپیکر کے پاس زیر التواء ہے اور اسپیکر کے فیصلہ تک ارکان کو انتظار کرنا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر ارکان کو اعتراض ہو تو وہ اسپیکر سے رجوع ہوسکتے ہیں۔ کانگریس کے ڈپٹی لیڈر محمد علی شبیر نے کہا کہ سرینواس یادو آج بھی تلگودیشم کے رکن کی حیثیت سے برقرار ہے پھر وہ کس طرح کابینہ میں وزیر رہ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب تک حکومت سرینواس یادو کی رکنیت کے بارے میں وضاحت نہیںکرے گی اس وقت تک کانگریس پارٹی کونسل میں اُن کا بائیکاٹ کرے گی۔ کانگریس اور تلگودیشم کے ارکان نے کونسل سے واک آوٹ کردیا۔ وزیر امور مقننہ ہریش راو نے دونوں جماعتوں کے موقف پر نکتہ چینی کی اور کہا کہ آندھراپردیش میں تلگودیشم پارٹی نے وائی ایس آر کانگریس سے تعلق رکھنے والے کئی قائدین کو شامل کرلیا ۔ اس انحراف کیلئے ریاست کی ترقی اور حکومت کی کارکردگی کا بہانہ بنایا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں بھی چیف منسٹر اور حکومت کی کارکردگی سے متاثر ہوکر دیگر جماعتوں کے ارکان شامل ہورہے ہیں اس میں کوئی قابل اعتراض بات نہیں۔ انہوں نے اپوزیشن کو مشورہ دیا کہ وہ حکومت پر تنقید سے پہلے اپنا محاسبہ کریں۔ ہریش راو نے کہا کہ وائی ایس راج شیکھر ریڈی نے ٹی آر ایس کے 16 ارکان کو کانگریس میں شامل کرلیا تھا۔ انتخابات سے قبل ٹی آر ایس کی رکن پارلیمنٹ وجئے شانتی اور رکن اسمبلی ارویند ریڈی کو کانگریس میں شامل کرلیا۔ لہذا ان دونوں جماعتوں کو حکومت پر تنقید کا کوئی حق نہیں۔ تلگودیشم اور کانگریس ارکان کے واک آوٹ کے بعد سرینواس یادو نے سوال کا جواب دیا لیکن کسی بھی رکن نے ضمنی سوال نہیں پوچھا۔ واضح رہے کہ سرینواس یادو نے کابینہ میں شمولیت سے قبل اسمبلی کی رکنیت سے استعفی دیدیالیکن ابھی تک ان کا استعفی قبول نہیں کیا گیا ۔