حیدرآباد ۔ 18 ۔ مارچ (سیاست نیوز) تلنگانہ اسمبلی میں آج 5 محکمہ جات کے مطالبات زر پیش کئے گئے جن میں اقلیتی بہبود، سماجی بھلائی، ہاؤزنگ ، بہبودیٔ پسماندہ طبقات، قبائلی بہبود اور بہبودی خواتین و اطفال شامل ہیں۔ وزیر آبپاشی و امور مقننہ ہریش راؤ نے چیف منسٹر کی جانب سے سماجی بھلائی اور اقلیتی بہبود کے مطالبات زر کو مباحث کیلئے پیش کیا۔ اقلیتی بہبود کے تحت 1105 کروڑ 36 لاکھ 6 ہزار روپئے مختص کئے گئے ہیں۔ سماجی بھلائی کے تحت 6153 کروڑ 91 لاکھ 39 ہزار جبکہ قبائلی بہبود کیلئے 3309 کروڑ 5 لاکھ 18 ہزار اور بہبودی پسماندہ طبقات کے تحت 2172 کروڑ 18 لاکھ 59 ہزار کے مطالبات زر پیش کئے گئے۔ اقلیتی بہبود کے مطالبات زر میں منصوبہ جاتی بجٹ کے تحت 1100 کروڑ کی گنجائش رکھی گئی ہے جبکہ غیر منصوبہ جاتی مصارف کے تحت انتظامی اخراجات کے لئے 5 کروڑ 36 لاکھ 6 ہزار روپئے مختص کئے گئے ۔ حکومت نے اسکالرشپ ، ہاسٹلس، اقامتی اسکولس ، اسٹڈی سرکل ، فیس بازادائیگی اور شادی مبارک جیسی اسکیمات کیلئے زائد رقم مختص کی ہے۔
راجستھان میں درگاہ حضرت خواجہ معین الدین چشتیؒ کے قریب حیدرآبادی رباط کی تعمیر کیلئے 5 کروڑ روپئے مختص کئے گئے۔ حکومت نے اقلیتی طلبہ کو بیرون ملک تعلیم کے حصول کیلئے 10 لاکھ روپئے تک قرض کی فراہمی کی اسکیم کو شامل کیا ہے جس کے تحت 2015-16 کے بجٹ میں 25 کروڑ روپئے فراہم کئے گئے۔ اقلیتی طلبہ کو فیس ری ایمبرسمنٹ کے سلسلہ میں 425 کروڑ روپئے مختص کئے گئے۔ اقلیتی طالبات کے رہائشی اسکولس کی تعمیر پر 20 کروڑ ، ہاسٹلس اور اقامتی اسکولس کیلئے 71 کروڑ 65 لاکھ ، تلنگانہ اسٹڈی سرکل کیلئے 6 کروڑ کی رقم فراہم کی گئی ہے۔ شادی مبارک اسکیم کیلئے جاریہ سال کی طرح 100 کروڑ روپئے فراہم کئے گئے۔ اقلیتوں کی سماجی و معاشی ترقی سے متعلق پروگراموں کیلئے 27 کروڑ روپئے الاٹ کئے گئے۔ تلنگانہ اقلیتی فینانس کارپوریشن کے ذریعہ بینکوں سے مربوط سبسیڈی اسکیم کے تحت 76 کروڑ ، کرسچن فینانس کارپوریشن کیلئے 19 کروڑ کی گنجائش رکھی گئی ہے۔ بیت المقدس کی زیارت کیلئے سبسیڈی کی فراہمی کے سلسلہ میں دو کروڑ روپئے فراہم کئے گئے ۔ تلنگانہ وقف بورڈ کو 3 اسکیمات کیلئے 53 کروڑ فراہم کئے گئے جن میں مساجد ، قبرستانوں اور عاشور خانوں کی تعمیر و درستگی ، مسلم مطلقہ خواتین کو امداد اور حج ہاؤز کی نگہداشت شامل ہے۔ اردو اکیڈیمی کیلئے 12 کروڑ کا بجٹ فراہم کیا گیا جبکہ اردو گھر شادی خانوں کی تعمیر کیلئے 10 کروڑ الاٹ کئے گئے۔ سی ای ڈی ایم کیلئے 3 کروڑ اور دائرۃ المعارف کیلئے 2 کروڑ کا بجٹ مختص کیا گیا۔ سروے کمشنر وقف کے ذریعہ وقف جائیدادوں کے دوسرے سروے کی عاجلانہ تکمیل کا فیصلہ کیا گیا۔ سروے ریکارڈس کو ڈیجیٹلائزڈ کرنے کا کام جاری ہے۔ اس سلسلہ میں 5 کروڑ روپئے فراہم کئے گئے۔ تلنگانہ حج کمیٹی کو 2 کروڑ روپئے بجٹ مختص کیا گیا ہے۔