تلنگانہ ریاست کے قیام سے قبل ہی چیف منسٹر کے عہدہ کی دوڑ دھوپ کا آغاز

دعویداروں کی فہرست میں اضافہ ۔ دلت کو چیف منسٹر بنانے جئے رام رمیش کے اعلان سے کئی قائدین کو مایوسی

حیدرآباد۔/11مارچ، ( سیاست نیوز) تلنگانہ ریاست کے قیام کیلئے ابھی دو ماہ باقی ہیں لیکن کانگریس کے تلنگانہ قائدین ابھی سے چیف منسٹر کے عہدہ کی دوڑ میں شامل ہوچکے ہیں۔ مرکزی حکومت کی جانب سے تلنگانہ ریاست کے قیام سے متعلق فیصلہ کے ساتھ ہی تلنگانہ کے سرکردہ قائدین خود کو چیف منسٹر کے دعویدار کے طور پر پیش کرنے لگے تھے۔ اب جبکہ 2جون کو تلنگانہ ریاست قائم ہوجائے گی، چیف منسٹر شپ کے دعویداروں کی تعداد میں اضافہ ہوچکا ہے۔ چیف منسٹر کے عہدہ کیلئے جاری اس دوڑ میں اعلیٰ طبقات اور بی سی طبقہ سے تعلق رکھنے والے قائدین کو اس وقت دھکہ لگا جب مرکزی وزیر جئے رام رمیش نے اعلان کردیا کہ تلنگانہ کا آئندہ چیف منسٹر دلت طبقہ سے ہوگا۔ جئے رام رمیش نے تلنگانہ کے بیشتر علاقوں میں دورہ کے موقع پر اپنے اس اعلان کا اعادہ کیا۔ انہوں نے یہ وضاحت نہیں کی کہ کانگریس ہائی کمان کی ہدایت پر وہ یہ اعلان کررہے ہیں یا پھر یہ ان کی ذاتی رائے ہے۔ کانگریس ہائی کمان کی جانب سے جنرل سکریٹری اے آئی سی سی ڈگ وجئے سنگھ کو آندھرا پردیش اُمور کا انچارج مقرر کیا گیا ہے لیکن گذشتہ دو ہفتوں سے جئے رام رمیش انچارج کا رول ادا کررہے ہیں۔ چیف منسٹر کے عہدہ کی دوڑ میں جو قائدین آگے تھے ان میں جئے پال ریڈی، کے جانا ریڈی، ڈی سرینواس، سریدھر بابو اور وی ہنمنت راؤ شامل ہیں۔ لیکن دلت کو چیف منسٹر بنانے کے اعلان کے ساتھ ہی ان قائدین کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ دلت طبقہ کی امیدواری کے اعلان کے ساتھ ہی کئی نئے چہرے چیف منسٹر کے دعویداروں میں شامل ہوگئے ان میں سابق ڈپٹی چیف منسٹر دامودھر راج نرسمہا، ڈاکٹر جے گیتا ریڈی، ڈپٹی اسپیکر بھٹی وکرمارکا اور مرکزی وزیر سروے ستیہ نارائنا شامل ہیں۔ جئے رام رمیش کے ان اعلانات سے ناراض اعلیٰ طبقات کے قائدین نے اس مسئلہ کو ہائی کمان سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وہ جئے رام رمیش کے بیانات کے سلسلہ میں ہائی کمان سے شکایت کریں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ جئے رام رمیش کس حیثیت سے یہ پالیسی اعلان کررہے ہیں۔

پسماندہ طبقات کے قائدین کا کہنا ہے کہ ریاست کی تاریخ میں ایس سی طبقہ سے تعلق رکھنے والے دامودرم سنجیویا چیف منسٹر کے عہدہ پر فائز رہ چکے ہیں لہذا اس مرتبہ بی سی طبقہ کو موقع دیا جانا چاہیئے۔واضح رہے کہ ٹی آر ایس سربراہ چندر شیکھر راؤ نے تلنگانہ تحریک کے دوران بارہا یہ اعلان کیا تھا کہ تلنگانہ کا پہلا چیف منسٹر دلت طبقہ سے ہوگا لیکن پارلیمنٹ میں بل کی منظوری کے ساتھ ہی وہ اس مسئلہ پر خاموش ہوگئے۔ ٹی آر ایس کے قائدین نئی ریاست میں کے سی آر کو چیف منسٹر کے عہدہ پر دیکھنا چاہتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ کے سی آر کی اس حکمت عملی کو ناکام بنانے کیلئے جئے رام رمیش نے دلت چیف منسٹر کا کارڈ پھینکا ہے۔ دوسری طرف تلگودیشم کے صدر چندرا بابو نائیڈو بی سی طبقہ سے تعلق رکھنے والے قائد کو چیف منسٹر کے عہدہ پر فائز کرنے کا اعلان کرچکے ہیں۔آئندہ عام انتخابات میں کانگریس پارٹی کا موقف کیا ہوگا اس کی فکر کانگریس قائدین کو نہیں لیکن وہ چیف منسٹر کے عہدہ کیلئے ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔