تلنگانہ ریاست میں مفت تعلیمی نظام پر زور،انتخابی منشور میں شامل کرنے کا مطالبہ ، پروفیسر ہرا گوپال

حیدرآباد۔13مارچ(سیاست نیوز)تعلیمی شعبوں میںسرمایہ دارانہ نظام کی غیرمعمولی اجارہ داری ریاست کے تعلیمی نظام میںبگاڑ کی اصل وجہہ بنی ہے بالخصوص معاشی طور پر پسماندہ نونہالوں کی تعلیم سے محرومی بھی تعلیمی شعبوں میںسرمائے دارانہ نظام کا داخلہ ہے آندھرا پردیش سیو ایجوکیشن کمیٹی کی جانب سے انتخابی منشور کی ضرورت پر منعقدہ گول میز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر ہرا گوپال ان خیالات کا اظہار کررہے تھے ۔ انہوں نے کہاکہ بیرونی ممالک جرمنی اور فرانس کے علاوہ دیگر مغربی ممالک میں مفت تعلیم کی سہولتیں نہ صرف شہریوں کو مہیا کی جاتی ہیں بلکہ بین الاقوامی طلبہ سے بھی فیس نہیں لی جاتی۔ پروفیسر ہرا گوپال نے ریاست کے سابق حکمران چندرابابو نائیڈو‘ آنجہانی وائی ایس راج شیکھر ریڈی اور ٹی آر ایس سربراہ کے چندرشیکھر رائو کو تعلیم کے خانگی شعبوں کوترقی اور مراعات دینے کا کام کیا جو قابلِ افسوس ہے ۔

انہوں نے کہاکہ سرکاری تعلیمی شعبوںکا استحکام معاشی طور پر پسماندہ طبقات کے کو تعلیم حاصل کرنے کے مواقع فراہم کرنے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ رکن اسمبلی وفلور لیڈر ٹی آر ایس مسٹر ای راجندرا نے کہاکہ تلنگانہ راشٹریہ سمیتی اپنے قیام سے اس بات کا اعلان کرتے آرہی ہے کہ علیحدہ ریاست تلنگانہ میںکے جی سے پی جی تک مفت تعلیم فراہم کی جائے گی انہوں نے کہاکہ اس ضمن میںٹی آر یس پارٹی کی جانب سے قائم کردہ مشاورتی کمیٹی کی تمام سفارشات کو روبعمل لایا جائے گا۔ اے پی این جی اوز کے دفتر میںمنعقدہ اس گول میز کانفرنس سے پروفیسر ڈی چکرا دھر رائو‘وی نرسمہا ریڈی‘ پرساد رائو‘ایچ راجو‘ روی چندرا‘ڈی لکشمی نارائنہ ‘ اور رمیش نے بھی مخاطب کیا۔