صنعتوں کے احیاء پر زور ، ٹی آر سی کا مذاکرہ ، رندھیر ریڈی کا خطاب
حیدرآباد۔6جولائی(سیاست نیوز)تلنگانہ میں چھوٹی بڑی صنعتوں کے قیام کے لئے ساز گار ماحول کے باوجودآندھرائی حکمرانوں نے تلنگانہ کے شعبہ صنعت کو ترقی سے محروم رکھا جبکہ متحدہ ریاست آندھرا پردیش سے قبل کے قائم کردہ صنعتی اداروں کو بھی منظم انداز میںنشانہ بناکر تلنگانہ کے شعبے صنعت کو تباہی کے دہانے پر پہنچادیاگیا۔تلنگانہ ریسو ر س سنٹر کے129ویں مذاکرہ تلنگانہ میںانڈسٹریز سے خطاب کے دوران مسٹر رندھیر ریڈی ریٹائرڈ ڈی جی ایم ‘ اے پی آئی ڈی سی نے ان خیالات کا اظہار کیا۔ مذاکرہ سے ڈی اشوک کمار سیکریٹری ٹی ای سی سی آئی ‘ بی سومیشوارکوارڈینٹر ٹی آر سی نے بھی خطاب کیا۔ مسٹر رندھیر ریڈی نے کہاکہ تلنگانہ وسائل سے مالا مال علاقہ ہے مگر حکومتوں کی عدم توجہ اور علاقہ تلنگانہ کے ساتھ متعصب رویہ نے تلنگانہ کے شعبہ صنعت کی تباہی کا سبب بنا۔ مسٹر رندھیر ریڈی نے کہاکہ مشروم کے علاوہ اس قسم کی کئی ایک صنعتیں تلنگانہ میںآسانی کے ساتھ قائم کی جاسکتی ہیں جس سے ہزاروں نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی کا ذریعہ بھی بنے گا۔انہوں نے آصف جاہی دور میں قائم کی گئی صنعتوں کے احیاء کو لازمی قراردیتے ہوئے کہاکہ متحدہ ریاست آندھرا پردیش کے قیام سے قبل تلنگانہ میںبے شمار صنعتیں آصف جاہی حکمرانوں نے قائم کی تھی جو ریاست کی آمدنی میںاضافے کے ساتھ عوام کو روزگار فراہم کرنے کا بھی بہترین ذریعہ ثابت ہوئی مگر آندھرائی حکمرانو ں نے علاقہ تلنگانہ کو پسماندہ بنانے کے لئے آصف جاہی دور کے تمام صنعتی اداروں کو منظم سازش کے تحت تباہ کردیا۔