تلنگانہ ریاستی سطح پر خانگی اسکول فیس میں غیر معمولی اضافہ

نتائج کے بعد فیس میں اضافہ کا اعلان ، طلبہ ، اولیائے طلبہ پریشان حال ، حکومت کی معنیٰ خیز خاموشی
حیدرآباد 23 اپریل (سیاست نیوز) ریاست تلنگانہ بالخصوص حیدرآباد کے خانگی تعلیمی اداروں میں سال حال تقریباً فیس میں 25 تا 30 فیصد اضافہ کردیا گیا ہے لیکن اِس سلسلہ میں اسکولوں کا کوئی ذمہ دار جوابدہی کے لئے تیار نہیں ہے۔ اولیائے طلبہ کو اساتذہ کے ذریعہ یہ کہہ دیا گیا ہے کہ آئندہ تعلیمی سال کے آغاز سے فیس میں اضافہ ہوجائے گا اور جن اسکولوں میں امتحان کے نتائج جاری کردیئے گئے اُن اسکولوں میں اولیائے طلباء کو فیس کارڈس بھی حوالے کئے گئے جنھیں دیکھنے کے بعد اولیائے طلبہ کی پریشانیوں میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ اولیائے طلبہ ، والدین و سرپرست پہلے سے ہی یونیفارم، کتابوں کے علاوہ ٹرانسپورٹ کے اخراجات سے متعلق متفکر تھے ایسے میں اسکولس انتظامیہ نے بے رحمانہ انداز میں فیس میں اضافہ کرتے ہوئے نیا بوجھ عائد کردیا ہے۔ حکومت کی جانب سے بنائے گئے قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے چلائے جانے والے کئی خانگی اسکولس فیس کے معاملہ میں قوانین کا تذکرہ کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ حکومت نے اُنھیں اُن کی مرضی کے مطابق فیس وصول کرنے کا اختیار دے رکھا ہے۔ جبکہ حقیقت یہ نہیں ہے۔ اسکولوں پر لازمی ہے کہ وہ اپنی فیس کی مکمل تفصیلات ضلع ایجوکیشن عہدیدار کے پاس جمع کروائیں۔ دفتر حیدرآباد ڈسٹرکٹ ایجوکیشنل آفیسر میں دریافت کرنے پر یہ بات سامنے آئی ہے کہ کئی اسکولس کے ذمہ داران نے فیس کے متعلق تفصیلات تو کجا کئی ضروری معلومات ڈی ای او کے دفتر کو فراہم نہیں کی ہیں۔ محکمہ تعلیم میں جاری رشوت کے چلن، ریاست بالخصوص شہری علاقوں کے تعلیمی حالات کی تباہی کا موجب بن رہا ہے۔ ضلع کلکٹر کی جانب سے جاری کردہ رہنمایانہ خطوط پر عدم عمل آوری کے باوجود ضلع ایجوکیشن آفیسر کی جانب سے اختیار کردہ خاموشی کے سبب عوام بالخصوص اولیائے طلبہ و سرپرستوں میں شبہات پیدا ہوتے جارہے ہیں۔ اسکول انتظامیہ فیس میں کئے گئے اضافہ کے متعلق یہ کہہ رہے ہیں کہ حکومت کی جانب سے پراپرٹی ٹیکس میں کئے گئے بھاری اضافہ کے سبب اُنھیں اسکول کی عمارت کا اضافی ٹیکس ادا کرنا پڑرہا ہے جس کی وجہ سے وہ ایسا کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ لیکن اسکولس کی جانب سے پراپرٹی ٹیکس کا بہانا ناقابل قبول ہے چونکہ جتنا اضافہ پراپرٹی ٹیکس میں ہوا ہے اُس سے کئی گنا اضافہ فیس کی شکل میں وصول کیا جارہا ہے۔ بیشتر چھوٹے اسکولوں پر مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے کیا گیا یہ اضافہ بہت بڑا بوجھ بنا ہوا ہے جسے برداشت کرنے کے یہ اسکولس متحمل نہیں ہیں لیکن ایسے اسکول جو تعلیمی تجارت میں مصروف ہیں اُن کے لئے یہ اضافہ کوئی معنی نہیں رکھتا کیونکہ یونیفارم اور کتب کی فروخت کے ذریعہ ہی اسکول انتظامیہ پراپرٹی ٹیکس سے چار گنا زیادہ آمدنی حاصل کرلیتا ہے۔