تلنگانہ حکومت کو شدید دھکہ ، کانگریس کے دو ارکان بحال

کومٹ ریڈی اور سمپت کمار کی اسمبلی رکنیت کی برخاستگی کالعدم ، ہائی کورٹ کا فیصلہ
حیدرآباد ۔ 17 ۔ اپریل : ( سیاست نیوز) : ہائی کورٹ نے کانگریس کے دو ارکان اسمبلی کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی اور سمپت کمار کی اسمبلی رکنیت بحال کرتے ہوئے حکومت کو بہت بڑا دھکہ پہونچایا ہے ۔ دونوں کانگریس کے ارکان اسمبلی نے فیصلے کا خیر مقدم کیا اور گاندھی بھون میں کانگریس کارکنوں نے مٹھائیاں تقسیم کرتے ہوئے جشن منایا ہے ۔ واضح رہے کہ بجٹ سیشن کے آغاز پر گورنر نے دونوں ایوانوں کے ارکان سے مشترکہ طور پر خطاب کیا تھا ۔ کانگریس کے ارکان نے احتجاج کیا تھا ۔ صدر نشین تلنگانہ قانون ساز کونسل سوامی گوڑ پر حملہ کرنے اور ان کی آنکھ زخمی ہونے کے الزام میں اسپیکر اسمبلی مدھو سدن چاری نے کانگریس کے دو ارکان اسمبلی کی رکنیت منسوخ کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کو ریاست میں دو اسمبلی حلقے مخلوعہ سے واقف کراتے ہوئے الیکشن کرانے کی نمائندگی کی تھی ۔ کانگریس کے ارکان اسمبلی کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی اور سمپت کمار نے اسپیکر کے فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا ۔ ہائی کورٹ نے 6 ہفتوں تک اسپیکر اسمبلی کے فیصلے پر عبوری حکم التواء جاری کرتے ہوئے ہائی کورٹ میں سماعت مکمل ہونے تک انتخابی عمل شروع نہ کرنے کی بھی الیکشن کمیشن کو ہدایت دی تھی ۔ ساتھ ہی حملے کا ویڈیو فوٹیج ہائی کورٹ کو بند لفافے میں پیش کرنے کے بھی حکومت کو احکامات جاری کئے تھے ۔ اس مسئلہ پر ہائی کورٹ نے دو تین مرتبہ سماعت کرنے کے بعد 19 اپریل کو فیصلہ محفوظ کردیا تھا ۔ آج فیصلہ سناتے ہوئے کانگریس کے دونوں ارکان اسمبلی کی رکنیت بحال کردی ہے ۔ میعاد مکمل ہونے تک کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی اور سمپت کمار کو بحیثیت ارکان اسمبلی برقرار رکھنے کی حکومت کو ہدایت دی ہے ۔ ساتھ ہی ہائی کورٹ نے یہ بھی کہا ہے کہ صدر نشین تلنگانہ قانون ساز کونسل سوامی گوڑ پر حملہ کرنے کے معاملے میں حکومت دونوں ارکان اسمبلی کے خلاف فوجداری کارروائی کرنا چاہتی ہے تو ہائی کورٹ کا یہ فیصلہ اس میں حائل نہیں ہوگا ۔ ہائی کورٹ کا فیصلہ کانگریس ارکان اسمبلی کے حق میں آنے پر کانگریس قائدین و کارکنوں نے گاندھی بھون میں جشن منایا ۔ کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی اور سمپت کمار نے کہا کہ انہیں عدلیہ پر مکمل بھروسہ تھا اور اس فیصلے سے عوام میں عدلیہ کا اعتماد مزید بڑھ گیا ہے ۔ ہائی کورٹ کا فیصلہ حکومت کے منھ پر طمانچہ ہے ۔۔