تلنگانہ حج کمیٹی کے ملازمین کے ساتھ خصوصی سلوک

دیگر افراد سے ناانصافی،خادم الحجاج کے امیدواروں کی شکایت
حیدرآباد ۔ 18 ۔جون (سیاست نیوز) سرکاری محکمہ جات میں اصول اور ضوابط ہر کسی کیلئے یکساں ہونے چاہئے ۔ اگر عوام اور محکمہ سے تعلق رکھنے والے ملازمین کے درمیان امتیازی سلوک کیا جائے تو اس سے عوام میں غلط پیام جائے گا۔ تلنگانہ حج کمیٹی کے ذریعہ خادم الحجاج کی حیثیت سے روانہ ہونے کے خواہشمند امیدواروں اور سابق میں خادم الحجاج کی ذمہ داری ادا کرنے والے افراد نے حج کمیٹی کے ملازمین کے ساتھ رعایت اور مہربانی کے سلوک کا انکشاف کیا ہے۔ بتایا جاتاہے کہ تلنگانہ حج کمیٹی نے 2015 ء میں اپنے طور پر فیصلہ کیا کہ خادم الحجاج کی حیثیت سے فرائض میں غفلت برتنے والے افراد کو بلیک لسٹ کرتے ہوئے متعلقہ محکمہ سے ان کے خلاف تادیبی کارروائی کی سفارش کی جائے۔ 2015 ء میں 9 خادم الحجاج کو حجاج کرام کی شکایت پر بلیک لسٹ کیا گیا تھا، جن میں حج کمیٹی کے تین ملازمین بھی شامل تھے ۔ اس وقت کے سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل نے فرائض میں غفلت برتنے والے خادم الحجاج سے اخراجات کی رقم ریکور کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن سوائے بلیک لسٹ کرنے کے کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ سنٹرل حج کمیٹی یا اسٹیٹ حج کمیٹی میں اس طرح کا کوئی رول نہیں ہے جس کے تحت خادم الحجاج کو بلیک لسٹ کیا جائے ۔ خادم الحجاج میں جوابدہی کا احساس پیدا کرنے اور بہتر خدمات کو یقینی بنانے کیلئے یہ فیصلہ کیا گیا۔ بلیک لسٹ کرنے کی کوئی مدت طئے نہیں کی گئی جس کے نتیجہ میں 2015 ء میں جن کو بلیک لسٹ کیا گیا تھا، انہوں نے آج تک دوبارہ درخواست نہیں دی۔ سابق میں خادم کی حیثیت سے فرائض انجام دینے والے افراد نے شکایت کی ہے کہ 2015 ء میں حج کمیٹی کے جن دو ملازمین کو بلیک لسٹ کیا گیا تھا، انہیں 2018 ء میں دوبارہ روانہ کیا جارہا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کن کن بنیادوں پر یہ فیصلہ کیا گیا اور دیگر افراد کیلئے یہ سہولت کیوں نہیں ہے۔ اس سلسلہ میں جب اگزیکیٹیو آفیسر تلنگانہ حج کمیٹی پروفیسر ایس اے شکور سے بات کی گئی تو انہوں نے کہا کہ اگر 2015 ء میں بلیک لسٹ کئے گئے افراد 2 سال بعد دوبارہ درخواست داخل کرتے تو اسے قبول کیا جاتا۔ کسی نے دوبارہ درخواست داخل نہیں کی ۔ انہوں نے بتایا کہ سنٹرل حج کمیٹی کے قواعد کے مطابق حج کمیٹی کے دو اور وقف بورڈ کے ایک ملازم کو خادم الحجاج کی حیثیت سے روانہ کیا جاتاہے۔ حج کمیٹی میں مستقل ملازمین کی تعداد 19 ہے ، ان میں سے صرف 8 ملازمین ایسے ہیں جنہوں نے حج کی سعادت حاصل کی ہے۔ اب جبکہ خادم الحجاج کیلئے حج کے علاوہ عمرہ کی ادائیگی کو اہلیت شمار کیا جارہا ہے ، لہذا جاریہ سال سے خادم الحجاج کی درخواستوں میں اضافہ ہوگیا۔ انہوں نے کہا کہ حج کمیٹی کے ملازمین کو روٹیشن کی بنیاد پر روانہ کیا جارہا ہے۔ 2015 ء میں روانہ ہوئے دونوں ملازمین کا روٹیشن پر جاریہ سال دوبارہ انتخاب ہوا۔ انہوں نے کہا کہ حج کمیٹی کے دونوں ملازمین کو 2015 ء میں بلیک لسٹ نہیں کیا گیا بلکہ انہیں صرف وارننگ دی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ خادم الحجاج کیلئے خصوصی جیکٹ تیار کیا گیا ہے جس کا پہننا ان کے لئے لازمی رہے گا تاکہ ان کی شناخت ہوسکے ۔