حیدرآباد 16 فبروری (این ایس ایس ) تلنگانہ بل کے بارے میں باوثوق ذرائع نے توقع ظاہر کی ہے کہ مقررہ تاریخ سے ایک دن قبل یعنی 17 فبروری کو لوک سبھا میں منظور کیا جاسکتا ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق مرکزی حکومت اس مسئلہ پر بشمول چیف منسٹر این کرن کمار ریڈی، ارکان پارلیمنٹ لگڑا پاٹی راجگوپال، رائے پاٹی سامبا سیوا راو اور دیگر سیما آندھرا قائدین کو ہر گز کوئی موقع نہیں دینا چاہتی کہ وہ بل کی منظوری میں کوئی رکاوٹ پیدا کریں۔واضح رہے کہ لگڑا پاٹی راجگوپال کی جانب سے پارلیمنٹ میں ’بلیک پپر اسپرے‘ کے استعمال کے واقعہ پر برہم مرکزی حکومت نے پارلیمنٹ میں اس قسم کے بدبختانہ واقعات کے انسداد کیلئے تمام اقدامات کئے ہیں۔لوک سبھا کی اسپیکر میرا کمار نے اپنے نائب کی قیادت میں ایک کمیٹی تشکیل دی ہے جو اس واقعہ کی تحقیقات کریں گی۔ باور کیا جاتا ہے کہ مرکزی وزیر داخلہ نے چیف منسٹر این کرن کمار ریڈی اور دیگر سیما آندھرا قائدین کی ایماء پر اے پی این جی اوز اسو سی ایشن کی جانب سے کل جنتر منتر پر کئے جانے والے احتجاج کے موقع پر سخت انتظامات کئے ہیں ۔
اس دوران مرکزی وزیر جئے رام رمیش نے آج نئی دہلی میں ٹی آر ایس کے صدر کے چندر شیکھر راو سے ملاقات کے دوران مسئلہ تلنگانہ پر تبادلہ خیال کیا۔ باور کیا جاتا ہے کہ انہوں نے کے سی آر پر زور دیا کہ وہ گورنر راج، مشترکہ دارالحکومت، آندھرا پردیش بھون کے استعمال اور دیگر مسائل پر مفاہمتی فارمولہ قبول کرنے کی خواہش کی تاہم سمجھا جاتا ہے کہ کے سی آر نے انتہائی خوش اخلاقی کے ساتھ فوری طور پر اس بات کو قبول کرنے سے انکار کیا اور درخواست کی کہ وزیر فینانس پی چدمبرم کی جانب سے علی الحساب بجٹ کی پیشکشی سے قبل تلنگانہ بل کی منظوری کو یقینی بنایا جائے ۔ مرکزی حکومت نے اصل اپوزیشن جماعت بی جے پی کے تعاون سے تلنگانہ بل کی آسان منظوری کو یقینی بنانے کی کوشش میں مصروف ہے اور توقع ہے کہ 17 فروری کو ندائی ووٹ کے ذریعہ یہ بل منظور کرلی جائے گی اور دوسرے دن راجیہ سبھا میں اس کی منظوری متوقع ہے۔اس مقصد کیلئے ایوان بالا میں نظم و ضبط کی برقراری کو یقینی بنایا گیا ہے اور ہنگامہ آرا میں ملوث ارکان کو مارشیلس کی مدد سے باہر کردیا جائیگا۔