حیدرآباد 20 جنوری ( پی ٹی آئی ) تلنگانہ علاقہ سے تعلق رکھنے والے وزرا اور ارکان اسمبلی نے صدر جمہوریہ کو ایک مکتوب روانہ کرتے ہوئے ان سے درخواست کی ہے کہ تنظیم جدید آندھرا پردیش بل پر مباحث اور اس کی واپسی کیلئے وہ ریاستی اسمبلی کو مزید وقت نہ دیں۔ صدرجمہوریہ نے یہ بل 12 ڈسمبر کو ریاستی اسمبلی کو روانہ کیا تھا اور اس پر دستور کے آرٹیکل 3 کے تحت مباحث کرتے ہوئے اسے دوبارہ صدر جمہوریہ سے رجوع کرنے کیلئے 23 جنوری تک کا وقت دیا گیا تھا ۔ یہ اطلاعات گشت کر رہی ہیں کہ صدر جمہوریہ آندھرا پردیش اسمبلی کو اس بل کی واپسی کیلئے مزید 10 دن کا اضافی وقت دے سکتے ہیں ایسے میں تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے وزرا اور ارکان اسمبلی نے آج صدر جمہوریہ کو ایک مکتوب روانہ کرتے ہوئے اس اندیشے کا اظہار کیا ہے کہ مقننہ کو مزید وقت دینے کے نتیجہ میں تقسیم ریسات کا عمل متاثر ہو جائیگا ۔ تلنگانہ ارکان اسمبلی نے صدر جمہوریہ کو روانہ کردہ مکتوب میں تحریر کیا ہے کہ تلنگانہ علاقہ کے عوام میں یہ تشویش پائی جاتی ہے کہ اگر ریاستی اسمبلی کو اس مسودہ بل کی واپسی کیلئے مزید وقت دیا گیا تو تلنگانہ ریاست کی تشکیل کا عمل تعطل کا شکار ہوجائیگا ۔ اسی لئے آپ ( صدر جمہوریہ ) سے درخواست کی جاتی ہے کہ بل کی واپسی کیلئے مزید کوئی وقت نہ دیا جائے ۔ ان ارکان اسمبلی نے صدر جمہوریہ سے ملاقات کیلئے بھی وقت طلب کیا ہے تاکہ اپنے نقطہ نظر کو ان پر واضح کیا جائے ۔ اس مسودہ بل پر اسمبلی میں فی الحال مباحث جاری ہیں حالانکہ ابھی اس پر ایوان کے نصف ارکان نے بھی اظہار خیال نہیں کیا ہے
کیونکہ 16 ڈسمبر کے بعد سے ایوان کی کارروائی میں مسلسل خلل اندازی کی جاتی رہی ہے اور کئی گھنٹوں کا وقت ضائع ہوگیا ہے ۔ سیما آندھرا کے ارکان اسمبلی کی جانب سے مسلسل ایوان کی کارروائی میں رکاوٹیں پیدا کی جاتی رہی ہیں ۔ اس کے علاوہ ریاستی اسمبلی کو دو موقعوں پر تین ہفتوں کی تعطیلات بھی دیدی گئی تھیں جن کی وجہ سے مباحث کا عمل پورا نہیں ہوسکا ہے ۔ این ایس ایس کے بموجب تمام جماعتوں سے تعلق رکھنے والے تلنگانہ ارکان اسمبلی نے اس مکتوب کی روانگی کی حمایت کی ہے ۔ کانگریس ‘ ٹی آر ایس ‘ تلگودیشم ‘ سی پی آئی اور بی جے پی کے تلنگانہ ارکان نے آج ریاستی وزیر مسٹر کے جانا ریڈی سے ملاقات کرکے اس مکتوب کی روانگی کی حمایت کی تھی ۔ سمجھا جاتا ہے کہ مسٹر جانا ریڈی نے تلنگانہ بل پر مباحث کیلئے مزید چار ہفتوں کا وقت طلب کرنے پر چیف منسٹر کرن کمار ریڈی کو تنقید کا نشانہ بنایا ۔ ریاستی وزیر مسٹر ڈی سریدھر بابو نے کہا کہ تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے تمام جماعتوں کے قائدین نے ایک جٹ ہوکر صدر جمہوریہ کو مکتوب روانہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اس کے علاوہ صدر جمہوریہ سے ملاقات کا وقت بھی طلب کیا جارہا ہے ۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ اس بل کو روکنے کیلئے سازش کی جا رہی ہے اور تلنگانہ ریاست کے خلاف سیما آندھرا قائدین سبوتاج کا رویہ اختیار کئے ہوئے ہیں۔