تلنگانہ بل پر اسمبلی میں مزید بحث کیلئے سیما آندھرا قائدین کا اصرار

حیدرآباد 19 جنوری ( پی ٹی آئی) تلنگانہ مسودہ بل واپس کرنے کیلئے صدر جمہوریہ کی طرف سے مقرر کردہ مہلت 23 جنوری جیسے جیسے قریب آرہی ہے اس بات پر تجسس میں اضافہ دیکھا جارہا ہے کہ آیا ریاست کی تقسیم کی مخالفت کرنے والے قائدین مسودہ بل کی واپسی کی مہلت میں توسیع کی درخواست کریں گے یا نہیں۔ صدر جمہوریہ نے اس بل پر بحث کے بعد 23 جنوری تک واپسی کیلئے مہلت دی تھی لیکن یہ قیاس آرائیاں کی جارہی ہیکہ سیما آندھرا قائدین بحث کیلئے مزید وقت کی درخواست کرسکتے ہیں۔ آندھرا پردیش کے وزیر سماجی بہبود پی ستیہ نارائنا نے جن کا تعلق سیما آندھرا سے ہے گذشتہ روز اشارہ کیاکہ بل پر بحث کیلئے مزید وقت کی ضرورت ہوگی تاہم تلنگانہ قائدین مہلت میں کسی بھی توسیع کی مخالفت کررہے ہیں

اور انہوں نے الزام عائد کیا کہ مہلت میں توسیع کا بنیادی مقصد یہی ہے کہ آئندہ عام انتخابات سے قبل پارلیمنٹ میں اس بل کو منظور نہ کئے جانے کے حالات پیدا کئے جائیں۔ تلنگانہ راشٹرا سمیتی ( ٹی آر ایس) کے لیڈر کے کشیو راؤ نے کہا کہ ’’حتیٰ کہ زائد وقت بھی دیا جاتا ہے تو اس میںہمیں کسی پریشانی کی کوئی ضرورت نہیںہے۔‘‘ اسمبلی میں ٹی آر ایس کے فلور لیڈر ای راجندر نے آج یہاں کہاں کہ ’’ آندھرا پردیش کے چیف منسٹر اور دوسرے (سیما آندھرا قائدین) نے ہمیشہ ہی قیام تلنگانہ کو روکنے کی کوشش کی ہے لیکن ہم آگے بڑھتے ہیں اور اب بھی ہم ہر رکاوٹ عُبور کرلیں گے‘‘۔ علاقہ تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے قائدین کو ہنوز یہ یقین ہے کہ تلنگانہ بل آئندہ ماہ کے پارلیمانی اجلاس میںمنظور کرلیا جائے گا اور اگر آندھرا پردیش اسمبلی میں اس پر مزید بحث کیلئے ایک ہفتہ یا دس دن کا زائد وقت دینے کے بعد بھی بل کوواپس کیا جاتاہے تو پارلیمنٹ میں اس کی منظوری میں کوئی روکاوٹ نہیں ہوگی ۔

کانگریس کے رکن لوک سبھا لگڑا پاٹی راجگوپال نے سیما آندھرا سے تعلق رکھنے والے چند ارکان پارلیمنٹ کے ساتھ قبل ازیں یو پی اے حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کیا تھا۔ انہوں نے کہا ہے کہ آندھرا پردیش کی مجوزہ تقسیم کے خلاف پارلیمنٹ کے آئندہ اجلاس میں بھی وہ اپنی کوششیں جاری رکھیں گے ۔ اس دوران سیما آندھرا کے تلگودیشم قائدین نے متحدہ ریاست کے حامی ریاستی سرکاری ملازمین کی طرف سے 22 جنوری کو منظم کئے جانے والے چلو حیدرآباد پروگرام کی تائید کا اعلان کیا ہے ۔ آندھرا پردیش کی تقسیم کے خلاف یہ احتجاج منظم کیا جارہا ہے‘‘۔