تلنگانہ بل میں گورنر کو ’ خصوصی ذمہ داریوں ‘ پر وضاحت طلبی

مرکزی وزارت داخلہ کو گورنر ای ایس ایل نرسمہن کا مکتوب

حیدرآباد 12 اپریل ( پی ٹی آئی ) گورنر آندھرا پردیش مسٹر ای ایس ایل نرسمہن نے تنظیم جدید آندھرا پردیش قانون 2014 میں تلنگانہ اور آندھر اپردیش ریاستوں کے گورنر کو جو خصوصی ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں ان پر مرکز سے کچھ وضاحتیں طلب کی ہیں ۔ اس قانون کے تحت دونوں ہی ریاستوں کیلئے ایک ہی گورنر ہونگے اور وہ تلنگانہ کی مجلس وزارت کے مشوروں پر کام کرینگے ۔ تاہم گورنر کیلئے کابینہ کے مشورہ پر کام کرنا ضروری نہیں ہوگا اور مشترکہ دارالحکومت کے علاقہ میں وہ لا اینڈ آرڈر کی برقراری اور داخلیا سلامتی جیسے امور پر اپنے خصوصی اختیارات کا استعمال کرسکتے ہیں۔ اس قانون کے تحت گورنر پر یہ خصوصی ذمہ داری عائد کی گئی ہے ۔موجودہ گورنر نرسمہن فی الحال آندھرا پردیش کے اڈمنسٹریٹر ہیں کیونکہ ریاست میں صدر راج نافذ ہے ۔ انہوں نے مرکز کو ایک مکتوب روانہ کرتے ہوئے خصوصی ذمہ داریوں کے تعلق سے کچھ وضاحتیں طلب کی ہیں۔ مرکزی وزیر مسٹر جئے رام رمیش نے یہ بات بتائی انہوں نے بتایا کہ جمعرات کو ان کی گورنر سے تین گھنٹوں تک ملاقات ہوئی تھی جس میں تنظیم جدید آندھرا پردیش قانون پر عمل آوری کے موقف کا جائزہ لیا گیا ۔ گورنر نے مرکز سے کچھ وضاحتیں طلب کی ہیں اور مرکزی وزارت داخلہ نے دو ایک دن میں یہ وضاحتیں فراہم کرنے سے اتفاق کیا ہے ۔ مسٹر جئے رام رمیش اس وزارتی گروپ کے رکن ہیں جس نے تنظیم جدید آندھرا پردیش بل تیار کیا ہے ۔ انہوں نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب میں یہ بات بتائی ۔ انہوں نے کہا کہ گورنر نے خصوصی ذمہ داریوں کی وضاحت چاہی ہے ۔ جئے رام نے کہا کہ آندھرا پردیش کی تقسیم کے متعلق تمام مسائل بہتر انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں اور 2 جون کے بعد بہت کچھ کارروائیاں ہونگی ۔ 2 جون کو تلنگانہ ریاست کا قیام عمل میں آجائیگا ۔ انہوں نے کہا کہ تشکیل تلنگانہ کے دن سے قبل اور اس کے بعد بہت کچھ کیا جانا ہے ۔ تقسیم کے عمل کی نگرانی کیلئے 21 کمیٹیاں قائم کی گئی ہیں اور یہ 30 اپریل تک اپنی رپورٹ پیش کردینگی ۔ اس کے بعد تقسیم کا عمل باضابطہ طور پر شروع ہوجائیگا۔