حیدرآباد۔/11فبروری، ( سیاست نیوز) پارلیمنٹ میں تلنگانہ بل کی منظوری کو روکنے کیلئے کی جارہی سازشوں پر ٹی آر ایس اور ایمپلائیز جے اے سی نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔نئی دہلی میں موجود ٹی آر ایس اور تلنگانہ ملازمین کے قائدین نے اے پی بھون کے روبرو دھرنا منظم کرتے ہوئے مرکز سے مطالبہ کیا کہ پارلیمنٹ میں تلنگانہ بل کی پیشکشی کا عمل تیز کیا جائے۔ ان قائدین نے بی جے پی کی جانب سے تلنگانہ بل کے بارے میں موقف میں تبدیلی سے متعلق اطلاعات پر بھی ناراضگی ظاہر کی۔ ایمپلائز جے اے سی کے قائد سرینواس گوڑ نے کہا کہ پارلیمنٹ میں تلنگانہ بل کی منظوری کانگریس اور بی جے پی کی ذمہ داری ہے اور اگر جاریہ سیشن میں بل منظور نہیں ہوگا تو علاقہ میں سنگین صورتحال پیدا ہوجائے گی۔
انہوں نے کہا کہ کانگریس اور بی جے پی دونوں نے 2004انتخابات کے وقت ہی تلنگانہ ریاست کی تائید کا اعلان کیا تھا۔ اب جبکہ پارلیمنٹ میں بل کی منظوری قطعی مرحلہ میں ہے لہذا ان جماعتوں کو اپنے وعدہ پر قائم رہنا چاہیئے۔ انہوں نے صدر تلگودیشم چندرا بابو نائیڈو پر الزام عائد کیا کہ وہ مختلف ریاستوں کا دورہ کرتے ہوئے تلنگانہ بل کی کامیابی کو روکنے کی کوشش کررہے ہیں۔ جے اے سی قائدین نے دھمکی دی کہ بل کی منظوری میں تاخیر کی صورت میں نئی دہلی میں ایجی ٹیشن کا آغاز کردیا جائے گا۔ ٹی آر ایس مہیلا وبھاگ اور تلنگانہ وکلاء جے اے سی کی جانب سے بھی اے پی بھون کے روبرو مختلف پروگرام منعقد کئے گئے۔ تلنگانہ این جی اوز کے قائد دیوی پرساد نے الزام عائد کیا کہ کما طبقہ سے تعلق رکھنے والے قائدین بل کی منظوری روکنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے دھمکی دی کہ تلنگانہ عوام اس طرح کے قائدین کو سبق سکھائیں گے۔ انہوں نے کانگریس پارٹی سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی حلیف جماعتوں سے بات چیت کرتے ہوئے دونوں ایوانوں میں بل کی منظوری کو یقینی بنائیں۔
اسی دوران ٹی آر ایس پولیٹ بیورو رکن ڈاکٹر شراون نے سیما آندھرا قائدین پر تلنگانہ کے خلاف سازش کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ بل کے خلاف لاکھ سازشیں کی جائیں لیکن جاریہ سیشن میں اس کی منظوری یقینی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ مسئلہ پر تلگودیشم کا دوہرا موقف بے نقاب ہوچکا ہے لہذا پارٹی کے تلنگانہ قائدین اب عوام کا سامنا نہیں کرسکتے۔