ملک کو کانگریس کے پنجہ سے آزاد کیا جائے، صدر بی جے پی کا خطاب
حیدرآباد /11 مارچ (سیاست نیوز) بی جے پی صدر راجناتھ سنگھ نے سونیا گاندھی اور راہول گاندھی پر زور دیا کہ انھوں نے بی جے پی اور آر ایس ایس پر جو الزام عائد کیا ہے، اس سے فوری دست برداری اختیار کرلیں۔ بی جے پی کے زیر اہتمام نظام کالج گراؤنڈ پر منعقدہ جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ علحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل میں بی جے پی نے اہم رول ادا کیا ہے، لہذا دونوں ریاستوں کی ترقی میں بھی بی جے پی کلیدی رول ادا کرے گی۔ انھوں نے کہا کہ کانگریس نے ووٹ بینک پالیسی پر عمل کرتے ہوئے دونوں علاقوں کے عوام میں جو دراڑ پیدا کی ہے، بی جے پی اس کو دور کرنے اور ترقی دینے کا عزم رکھتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ عام انتخابات سے قبل کانگریس نے اپنی شکست قبول کرلی ہے، کیونکہ اب تک اس نے اپنے وزارت عظمی کے عہدہ دار کا اعلان نہیں کیا۔ انھوں نے کہا کہ ترقی کے معاملے میں گجرات سے ملک کے لئے رول ماڈل ہے، نریندر مودی ترقی کی علامت ہیں اور ان کے پاس ویژن ہے۔ گجرات میں پانی و برقی کی کوئی قلت نہیں ہے،
جب کہ ترقی کے معاملے میں کانگریس صدر سونیا گاندھی کی زیر قیادت ’’راجیو گاندھی فاؤنڈیشن‘‘ نے بھی گجرات کی ترقی کی ستائش کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگر پانچ سال قبل علحدہ تلنگانہ ریاست تشکیل پاجاتی تو تلنگانہ کے 1100 نوجوان خود کشی نہ کرتے، لیکن کانگریس نے صرف ووٹ بینک کی پالیسی پر عمل کیا۔ انھوں نے کہا کہ بی جے پی اور نریندر مودی کا مقابلہ کرنے کے لئے کانگریس کے پاس کوئی پالیسی نہیں ہے۔ انتخابات سے قبل شکست قبول کرنے والی کانگریس ترقی و بہبود کے نعرہ کے ساتھ عوام کے درمیان پہنچنے کی بجائے عوام کو گمراہ کر رہی ہے۔ کانگریس صدر سونیا گاندھی بی جے پی کو ’’زہر کی کھیتی‘‘ قرار دے رہی ہیں، جب کہ راہول گاندھی آر ایس ایس کو ’’گاندھی جی کا قاتل‘‘ کہہ کر سستی شہرت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جس کی وہ سخت مذمت کرتے ہیں اور دونوں قائدین کو بی جے پی اور آر ایس ایس کے خلاف عائد کردہ الزامات سے فوری دست بردار ہونے کا مشورہ دیتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی ذہنی طورپر دیوالیہ پن کا شکار ہے، کیونکہ اس نے گاندھی جی کے قبل کے بعد آر ایس ایس پر امتناع عائد کیا تھا اور پھر چھ ماہ کے بعد اپنی غلطی کا اعتراف کیا تھا۔