تلنگانہ اور اے پی کے ارکان پارلیمنٹ کے علیحدہ اجلاس

متعلقہ ریاستوں کے مفادات اور ترقی کیلئے پارلیمنٹ میں نمائندگی کرنے کے سی آر اور چندرابابونائیڈو کا مشورہ

حیدرآباد ۔ 6 ؍ جولائی (سیاست نیوز) ریاستوں کے مفادات کا تحفظ کرنے کے لئے ارکان پارلیمان سے کوشش کرنے کی چیف منسٹر تلنگانہ مسٹر کے چندرشیکھرراؤ اور چیف منسٹر آندھراپردیش مسٹر این چندرابابونائیڈو نے پرزور خواہش کی ۔ کل یعنی 7 ؍ جولائی سے شروع ہونے پارلیمانی اجلاس کے پیش نظر دونوں ریاستوں کے چیف منسٹروں نے اپنی اپنی ریاستوں کے ارکان پارلیمان کے ساتھ علحدہ علحدہ اجلاس منعقد کئے ۔ تلنگانہ ارکان پارلیمان کے ساتھ منعقدہ اجلاس سے چیف منسٹر مسٹر کے چندرا شیکھرراؤ نے خطاب کرنے کے بعد سکریٹری جنرل ٹی آر ایس و رکن پارلیمان ڈاکٹر کے کیشوراؤ اور آندھراپردیش ارکان پارلیمان کے ساتھ چیف منسٹر این چندرابابونائیڈو کے اجلاس کے بعد ریاستی وزیر فینانس مسٹر وائی راما کرشنوڈو نے اخباری نمائندوں سے بات چیت کی اور اجلاس کی روئیدادسے واقف کروایا۔ ریاست کی تشکیل جدید قانون میں دیئے گئے تیقنات کے مطابق اور مرکزی حکومت کے وعدوں پر عمل آوری کرنے کے لئے مسٹر نریندرمودی حکومت پر دباؤ ڈالنے کا دونوں ریاستوں تلنگانہ اور آندھراپردیش کے چیف منسٹروں نے اپنے ارکان پارلیمان کو ہدایت دیں ۔ اور کہا کہ سب مل کر اپنی سخت محنت و کوششوں کے ذریعہ مسائل کی یکسوئی کرلینے کا مشورہ بھی دیا ۔ تلنگانہ ارکان پارلیمان کے اجلاس نے پارلیمنٹ میں ریاست کی تشکیل جدید قانون پر ہونے والے مباحث کی مخالفت کرنے کا فیصلہ کیا ۔ اور پولاورم زیر آب آنے والے منڈلوں کے مسئلہ پر مرکزی حکومت دستور کی خلاف ورزی کرنے کا ارکان پارلیمان تلنگانہ نے اظہار کیا ۔ ڈاکٹر کے کیشوراؤ نے واضح طور پر کہا کہ پولاورم پراجکٹ میں زیر آب آنے والے منڈلوں کا تحفظ (کسی بھی صورت میں بچا جائیگا ) کیا جائے گا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ مشترکہ ریاستوں کے گورنر کو فراہم کردہ اختیارات کے معاملہ میں مرکزی وزارت داخلہ کی جانب سے کئے گئے فیصلوں کی پرزور مخالفت اور احتجاج کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ۔ علاوہ ازیں تلنگانہ کو آنے والے ریلوے پراجکٹس ‘ پانی کا مسئلہ ‘ فنڈز کی فراہمی ‘ برقی مسائل کے تعلق سے مرکزی حکومت کو واقف کروانے جدوجہد کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ تلنگانہ ریاست کے مفادات کے مقاصد کو پیش نظر پارلیمنٹ میں منصوبہ حکمت عملی اختیار کرنے کا اجلاس میں فیصلہ کیاگیا ۔ اسی دوران آندھراپردیش کے ارکان پارلیمان کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیف منسٹر این چندرابابونائیڈو نے کہا کہ پارلیمنٹ کو واقف کروانے کیلئے (35) موضوعات کی نشاندہی کی گئی ہے ۔ بعدازاں مسٹر وائی راما کرشنوڈو وزیر فینانس کہا کہ حکومت آندھراپردیش نے بتایا کہ آندھرپردیش ریاست کی ترقی کیلئے تمام ارکان پارلیمان متحدہ طور پر کوشش کرنے کی شدید ضرورت ہے ۔ ریاست کی تشکیل جدید قانون میں دیئے گئے تیقنات کی روشنی میں آندھراپردیش کو حاصل ہونے والے مفادات پر ہی اجلاس میں خصوصی توجہ دی گئی اور تفصیلی مباحث ہوئے ۔ انہوں نے کہا کہ آندھراپردیش کے لئے مرکز سے زائد فنڈز حاصل کرتے ہوئے ریاست میں زیادہ سے زیادہ سہولتیں فراہم کرلینے کے اقدامات کرلینے کی شدید ضرورت ہے ۔ مسٹر وائی راما کرشنوڈو نے بالواسطہ طور پر وائی ایس آر کانگریس پارٹی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ درحقیقت وائی ایس آر کانگریس پارٹی کو آندھراپردیش کی ترقی سے ہرگز کوئی دلچسپی نہیں ہے جس کی وجہ سے سے ہی وہ مدعو کرنے کے باوجود ارکان پارلیمان کے اجلاس سے عمداً غیر حاضر رہے ۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کی راجدھانی کی تعمیر کرنے کسانوں کے مسائل ‘ فنڈ کے حصول ‘ پانی کے مسائل پر خصوصی توجہ دینے کا ارکان پارلیمان کو مشورہ دیا گیا ۔ وزیر فینانس آندھراپردیش نے مزید کہا کہ ریلوے بجٹ میں آندھراپردیش سے درکار اہمیت دیئے جانے کے لئے مرکزی حکومت پر دباو ڈالنے کے اقدامات کئے جائیں گے ۔ پولاورم پراجکٹ کو قومی پراجکٹ کی جہت سے باقاعدہ طور پر اعلان کرنے اور جلد سے جلد اس پراجکٹ کی تعمیر کو مکمل کرنے آندھراپردیش کو بڑے پیمانے پر رقومات فراہم کرنے کے لئے مرکز پر زبردست دباؤ کو برقرار رکھنے کے اقدامات کئے جائیں گے ۔