اقلیتی فینانس کارپوریشن کے معطل عہدیداروں کی بحالی پر تنازعہ میں ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی کی مداخلت
حیدرآباد۔/5مارچ، ( سیاست نیوز) تلنگانہ اور آندھرا پردیش کے اقلیتی بہبود کے عہدیداروں میں جاری تنازعہ کی یکسوئی کیلئے آخر کار ڈپٹی چیف منسٹر تلنگانہ جناب محمد محمود علی کو مداخلت کرنی پڑی۔ انہوں نے دونوں ریاستوں کے اقلیتی بہبود کے اعلیٰ عہدیداروں سے بات چیت کرتے ہوئے تنازعہ کی یکسوئی اور باہمی مشاورت اور تعاون کے ذریعہ کام کرنے کا مشورہ دیا۔ واضح رہے کہ آندھرا پردیش حکومت کی جانب سے اقلیتی فینانس کارپوریشن کے دو ملازمین کے بارے میں جاری کردہ احکامات کے بعد تنازعہ پیدا ہوا تھا۔ تلنگانہ کے اسپیشل سکریٹری اقلیتی بہبود نے احکامات پر عمل آوری روکنے کیلئے باقاعدہ میمو جاری کیا جس کے بعد تنازعہ نے شدت اختیار کرلی۔ گزشتہ دو دن سے اس سلسلہ میں تعطل کی صورتحال برقرار تھی جس کے بعد ڈپٹی چیف منسٹر جناب محمود علی نے تفصیلات معلوم ہونے پر دونوں ریاستوں کے عہدیداروں سے ربط قائم کیا۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتوں کی ترقی چاہے وہ کسی ریاست میں ہو عہدیداروں کی اولین ترجیح ہونی چاہیئے۔ اس سلسلہ میں باہمی تنازعات یا تکنیکی بنیادوں پر ایک دوسرے سے عدم تعاون کے سبب مزید مسائل پیدا ہوسکتے ہیں اور دونوں ریاستوں میں اقلیتی بہبود کے کام پر اثر پڑے گا۔ جناب محمود علی نے دونوں ریاستوں کے عہدیداروں کو مشورہ دیا کہ وہ باہم مذاکرات کے ذریعہ مسئلہ کی یکسوئی کریں تاکہ محکمہ کی نیک نامی متاثر نہ ہو۔ آندھرا پردیش حکومت کی جانب سے جاری کردہ احکامات کے بارے میں وہاں کے عہدیداروں نے وضاحت کی کہ قواعد کے مطابق جی او جاری کیا گیا تھا اور دو ملازمین کی بحالی کے سلسلہ میں ویجلینس کمیشن سے رائے حاصل کی گئی لہذا تلنگانہ کے عہدیداروں کا اعتراض غیر ضروری ہے۔ جناب محمود علی کی مداخلت اور عہدیداروں سے بات چیت کے بعد تنازعہ میں کمی آئی اور جن ملازمین کو آندھرا پردیش حکومت نے بحال کیا تھا انہیں کام پر رجوع کرلیا گیا۔ اگرچہ تلنگانہ حکومت نے اپنے میمو سے دستبرداری اختیار نہیں کی تاہم اقلیتی فینانس کارپوریشن کی تقسیم کے آخری مراحل کو دیکھتے ہوئے تنازعہ کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ بعض مفادات حاصلہ نے دونوں ریاستوں کے عہدیداروں کے درمیان غلط فہمیوں کو ہوا دی جس کے سبب یہ صورتحال پیدا ہوئی۔ اتنا ہی نہیں تلنگانہ حکومت میں اقلیتی بہبود کے تین اہم عہدیداروں میں بھی بعض عناصر نے دوری پیدا کرنے کی کوشش کی جس کا اظہار محکمہ کے جائزہ اجلاس میں ہوا۔ جائزہ اجلاس میں تلنگانہ عہدیداروں کے درمیان گرما گرم مباحث کی اطلاع ملی ہے اور بعض عہدیداروں نے انہیں زائد ذمہ داریوں سے سبکدوش کرنے کا مطالبہ کیا۔ ان اطلاعات کے عام ہوتے ہی ڈپٹی چیف منسٹر جناب محمود علی نے مداخلت کی۔ جناب محمود علی نے دونوں ریاستوں کے اقلیتی بہبود کے عہدیداروں کو صلاح دی کہ وہ باہمی تال میل کے ذریعہ دونوں ریاستوں میں اقلیتی بہبود کی اسکیمات پر موثر عمل آوری کو یقینی بنائیں۔ اسی دوران تلنگانہ حکومت نے اقلیتی فینانس کارپوریشن کی تقسیم کا عمل مکمل کرتے ہوئے متعلقہ فائیل محکمہ جی اے ڈی کو روانہ کردی ہے اور امکان ہے کہ اندرون تین یوم کارپوریشن کی تقسیم کا عمل مکمل ہوجائے گا جس کے بعد شیخ محمد اقبال آندھرا پردیش اقلیتی فینانس کارپوریشن کے منیجنگ ڈائرکٹر کی حیثیت سے ذمہ داری سنبھال لیں گے۔