تلنگانہ اسمبلی کے پہلے اجلاس کا آغاز

عبوری اسپیکر جاناریڈی نے حلف دلایا، کے سی آر نے خدا کے نام پر تلگو میں حلف لیا

حیدرآباد۔ 9 جون (سیاست نیوز) ملک کی 29 ریاست کی حیثیت سے تلنگانہ کے قیام کے بعد پہلی مرتبہ تلنگانہ اسمبلی کا اجلاس آج سے شروع ہوا ۔ اجلاس کے پہلے دن چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ سمیت جملہ 116 ارکان اسمبلی نے رکنیت کا حلف لیا، جبکہ کانگریس کے سینئر قائد کے جانا ریڈی نے عبوری اسپیکر کی حیثیت سے ارکان کو حلف دلایا۔ صبح میں ریاستی گورنر ای ایس ایل نرسمہن نے جانا ریڈی کو اسمبلی کی رکنیت اور عبوری اسپیکر کے عہدہ کا حلف دلایا۔ اجلاس کے پہلے دن جملہ 117 ارکان اسمبلی کی حلف برداری مکمل ہوگئی اور 2 ارکان غیرحاضر رہے جن کا تعلق پرانے شہر سے ہے۔ صبح 11 بجے ایوان کی کارروائی شروع ہوئی اور عبوری اسپیکر جانا ریڈی نے کرسیٔ صدارت سنبھالی۔ ارکان اسمبلی نے اسمبلی کی رکنیت کے علاوہ اسمبلی قواعد کی پابندی کرنے کا حلف اُٹھایا۔ سب سے پہلے چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ نے تلگو زبان میں خدا کے نام پر حلف لیا۔ اس کے بعد ریاستی وزراء، خاتون ارکان اسمبلی اور پھر انگریزی حروف تہجی کی ترتیب سے ارکان نے حلف لیا۔ ڈپٹی چیف منسٹرڈاکٹر پی راجیا نے تلگو زبان میں عہد ِواثق کیا۔ ان کے بعد دیگر وزراء ای راجندر، جگدیش ریڈی، جوگو رامنا، کے ٹی راما راؤ، ای مہیندر ریڈی، پی سرینواس ریڈی، ہریش راؤ اور ٹی پدما راؤ نے حلف لیا۔ بیشتر ارکان نے تلگو زبان میں خدا کے نام پر حلف لیا جبکہ کمیونسٹ جماعتوں کے بشمول بعض ارکان نے عہد ِ واثق کیا۔ خاتون ارکان میں ٹی آر ایس کی اجمیرا ریکھا نائیک سب سے پہلے انگریزی میں خدا کے نام پر حلف لیا۔ ان کے بعد ڈی کے ارونا، بی شوبھا، ڈاکٹر جے گیتا ریڈی، جی سنیتا، کونڈا سریکھا، کے لکشمی، پدما دیویندر ریڈی اور پدماوتی ریڈی نے اسمبلی کی رکنیت کا حلف لیا۔ ڈاکٹر گیتا ریڈی اور پدماوتی ریڈی نے انگریزی میں حلف لیا۔ ریاستی کابینہ میں شامل دو وزراء بشمول ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی ایوان میں موجود نہیں تھے۔ وہ چونکہ قانون ساز کونسل کے رکن ہیں، لہذا حکومت نے انہیں کونسل میں قائد ایوان مقرر کیا ہے۔ انہوں نے کونسل میں رکنیت کا حلف لیا جبکہ وزیر داخلہ این نرسمہا ریڈی پولیس اور سیول عہدیداروں کے ساتھ منالی کے دورہ پر ہیں، جہاں حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے ایک انجینئرنگ کالج کے طلبہ غرقاب ہوگئے۔ این نرسمہا ریڈی فی الوقت کسی بھی ایوان کے رکن نہیں ہیں۔ اندرون 6 ماہ انہیں قواعد کے مطابق کسی ایک ایوان کا رکن منتخب ہونا لازمی ہے۔حلف برداری دوپہر ایک بجے تک جاری رہی جس کے بعد عبوری اسپیکر جانا ریڈی نے ایوان کی کارروائی منگل تک کیلئے ملتوی کردی۔