تلنگانہ اسمبلی کے اجلاس میں ہنگامہ آرائی

حیدرآباد ۔ 18 ۔ مارچ (سیاست نیوز) تلنگانہ اسمبلی میں آج اس وقت ہنگامہ آرائی ہوئی جب کانگریس کے رکن ڈی کے ارونا نے ٹی آر ایس کی رکن اسمبلی اور گورنمنٹ وہپ جی سنیتا کی جانب سے شراب کے کاروباری کو اسمبلی کی لابی میں لانے کامسئلہ اٹھایا۔ وقفہ صفر کے دوران ڈی کے ارونا نے بعض اخبارات میں شائع شدہ خبروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسمبلی کی لابی میں بعض غیر مجاز افراد کو داخلہ کی اجازت دی جارہی ہے اور ٹی آر ایس کی رکن اسمبلی کی جانب سے اس طرح کا اجازت نامہ جاری کرنا مناسب نہیں۔ وزیر اکسائز پدما راؤ نے وضاحت کی کہ شراب کے کسی تاجر کو اسمبلی میں داخلہ کی اجازت نہیں دی گئی اور ڈی کے ارونا کا الزام بے بنیاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ اخبارات میں شائع شدہ رپورٹس میں کوئی سچائی نہیں ہے۔ ان کے اور ٹی آر ایس رکن سنیتا کے درمیان جھگڑے کی اطلاعات بے بنیاد ہیں۔ اس مرحلہ پر گورنمنٹ وہپ جی سنیتا نے وضاحت کی کہ دراصل ان کے شخصی پی آر او پرکاش کو انہوں نے پاس جاری کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ شراب کی کسی کنٹراکٹر کو اسمبلی کی لابی میں لانے سے متعلق الزام کو کانگریس رکن ثابت کر دکھائیں۔ سنیتا نے کہا کہ اسمبلی کے سی سی ٹی وی فوٹیج اور وزیٹرس کے ریکارڈس کے ذریعہ حقائق کا پتہ چلایا جاسکتا ہے۔ سنیتا نے ڈی کے ارونا پر جوابی حملہ کرتے ہوئے ایک اخبار میں شائع شدہ رپورٹ کا حوالہ دیا جس میں ڈی کے ارونا کے رشتہ داروں کی جانب سے غیر قانونی کانکنی کا انکشاف کیا گیا تھا۔ اس الزام پر کانگریسی ارکان برہم ہوگئے اور ایوان کے وسط میں پہنچ کر احتجاج کرنے لگے۔ کانگریس کے ارکان جیون ریڈی ، ومشی چندرا ریڈی ، سمپت کمار ، پی اجئے کمار ، جی چنا ریڈی ، رام موہن ریڈی اور ڈاکٹر گیتا ریڈی بھی احتجاج میں شامل ہوگئیں۔ کانگریس ارکان کا مطالبہ تھا کہ ڈی کے ارونا کے خلاف عائد کردہ الزامات کو ایوان کے ریکارڈ سے حذف کیا جائے۔ اسپیکر مدھو سدن چاری نے تیقن دیا کہ وہ ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد الزامات کو حذف کردیں گے ۔ اس تیقن کے باوجود کانگریسی ارکان نے اپنا احتجاج جاری رکھا جس پر اسپیکر نے ایوان کو چائے کے وقفہ کے لئے ملتوی کردیا۔