حیدرآباد ۔ 9 جولائی ۔ ( سیاست نیوز) آندھراپردیش میڈیکل کونسل آف انڈیا سے مزید 350 ایم بی بی ایس نشستیں حاصل کرتے ہوئے 800 نشستوں تک پہنچ چکا ہے ۔تلنگانہ و آندھراپردیش ریاستوں کی علحدگی کے بعد آندھراپردیش کو تعلیم کے شعبہ میں یہ بڑی کامیابی تصور کی جارہی ہے کیونکہ بیک وقت 350نشستوں کا حصول معمولی بات نہیں ہے ۔ وزیر صحت آندھراپردیش کے سرینواس کے بموجب سال 2014 ء میں نیلور میں قائم کئے گئے نئے میڈیکل کالج میں 150نشستیں ہوں گی جبکہ پدماوتی میڈیکل کالج تروپتی میں 150 نشستیں فراہم کی جائیں گی ۔ اسی طرح ایس وی میڈیکل کالج میں 50 نشستوں کو منظوری دی گئی ہے ۔ ذرائع کے بموجب میڈیکل کونسل آف انڈیا نے سال گزشتہ اپنے معائنہ کے دوران بعض وجوہات کی بناء پر وشاکھاپٹنم کالج ، سدھارتا کالج وجئے واڑہ کے علاوہ گنٹور میڈیکل کالج کی 50، 50 نشستوں کو منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا تھا لیکن سال حال چیف منسٹر مسٹر این چندرابابو نائیڈو کی کاوشوں کے سبب منسوخ کردہ ان 150 نشستوں کی بحالی بھی یقینی تصور کی جارہی ہے ۔ ریاست تلنگانہ میں سرکاری میڈیکل کالج جوکہ نظام آباد میں قائم کیا گیا تھا وہ بھی میڈیکل کونسل آف انڈیا کے نشانہ پر ہے اور سہولیات کی عدم موجودگی کی بناء پر اس کالج میں نشستوں کی فراہمی کے متعلق ایم سی آئی کی جانب سے تردد کا اظہار کیا جارہا ہے
اسی طرح میڈیکل کونسل آف انڈیا نے گاندھی میڈیکل کالج میں بھی سہولتوں کی عدم موجودگی کے متعلق سوال اُٹھایا تھا اور اس بات کی ہدایت دی تھی کہ نشستوں میں اضافہ سے قبل کالج کے احاطہ میں توسیع کیا جانا ضروری ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ میڈیکل کونسل آف انڈیا کی جانب سے منعقدہ اجلاس میں اس فیصلے کو قطعیت دیدی گئی ہے کہ آندھراپردیش میں جو 150 نشستیں مختلف وجوہات کی بناء پر منسوخ کی گئی تھی وہ بحال کردی جائیں گی ۔ علاوہ ازیں تین علحدہ کالجس کیلئے 350 اضافی نشستوں کی فراہمی کو بھی منظوری دینے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے ۔ تلنگانہ میں ایم بی بی ایس نشستوں کے متعلق گاندھی میڈیکل کالج اور نظام آباد میں قائم کئے گئے سرکاری میڈیکل کالج میں نشستوں کے اضافہ سے متعلق ٹال مٹول کی پالیسی کا سلسلہ اب بھی برقرار ہے ۔ حکومت تلنگانہ کی جانب سے اگر بروقت مرکز سے نمائندگی کرتے ہوئے میڈیکل کونسل آف انڈیا کو ہدایات جاری نہ کروائی گئی تو ایسی صورت میں ریاست تلنگانہ میں ایم بی بی ایس نشستوں کا حال جوں کا توں برقرار رہے گا ۔