تلنگانہ اور آندھراپردیش حکومتوں کو مشکلات کا سامنا، مرکز سے سیول سرویس عہدیداروں کیلئے رہنمایانہ خطوط کی عدم اجرائی
حیدرآباد۔/5جولائی، ( سیاست نیوز) آندھرا پردیش کی دو ریاستوں میں تقسیم کو ایک ماہ سے زائد کا عرصہ ہوچکا ہے لیکن ابھی تک دونوں ریاستوں میں ملازمین کی عدم تقسیم اور سکریٹریٹ میں دفاتر کیلئے جگہ کی عدم فراہمی کے سبب دونوں حکومتوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ مرکزی حکومت نے دونوں ریاستوں کیلئے آئی اے ایس، آئی پی ایس اور آئی ایف ایس عہدیداروں کی تقسیم کے سلسلہ میں ابھی تک رہنمایانہ خطوط جاری نہیں کئے جس کے باعث موجودہ عہدیداروں کے ذریعہ ہی دونوں حکومتیں ایک سے زائد محکمہ جات کا کام انجام دے رہی ہیں۔ پہلے مرحلہ میں دونوں ریاستوں کو دو عہدیدار الاٹ کئے گئے انہیں زائد ذمہ داریاں دیتے ہوئے مختلف اُمور کی تکمیل کی جارہی ہے۔ اس کے علاوہ ماتحت عہدیداروں اور ملازمین کی تقسیم کا عمل بھی باقی ہے۔ دونوں ریاستوں کے کسی بھی محکمہ میں درکار اسٹاف موجود نہیں۔ ڈپٹی سکریٹری، ایڈیشنل سکریٹری، جوائنٹ سکریٹری اور اسسٹنٹ سکریٹری رتبہ کے عہدیداروں کی کمی کا دونوں حکومتوں کو سامنا ہے۔ اسٹاف کی تقسیم میں تاخیر کا اثر حکومتوں کی کارکردگی پر صاف دکھائی دے رہا ہے۔ کسی بھی کام کے سلسلہ میں جب اعلیٰ عہدیداروں سے مسئلہ کو رجوع کیا جاتا ہے تو وہ اسٹاف کی منتقلی کے بعد مسئلہ کی یکسوئی کا تیقن دے رہے ہیں۔ دونوں ریاستوں کے درمیان سکریٹریٹ تو تقسیم کردیا گیا لیکن ابھی تک متعلقہ حکومتوں کے محکمہ جات انہیں مختص کردہ عمارت میں منتقل نہیں ہوئے، اس کی اہم وجہ یہ ہے کہ دفاتر کے قیام کیلئے ضروری انفراسٹرکچر موجود نہیں جس کے باعث آندھرا پردیش کے کئی دفاتر ابھی بھی تلنگانہ کی عمارتوں میں جبکہ تلنگانہ کے بعض دفاتر آندھرا کو الاٹ کردہ عمارتوں میں برقرار ہیں۔ ریاست کی تقسیم کے بعد متعلقہ ریاستوں کے ملازمین دوسری ریاست کے شعبوں کو منتقلی کیلئے دباؤ ڈال رہے ہیں لیکن دفتر کی عدم تیاری اور عہدیداروں کو چیمبرس کی عدم موجودگی کے باعث وہ موجودہ دفاتر سے ہی کام کررہے ہیں۔ اسی دوران تلنگانہ ریاست کیلئے الاٹ کردہ B بلاک میں موجود سکریٹری اقلیتی بہبود آندھرا پردیش اور متعلقہ سیکشن کو Lبلاک منتقل کردیا گیا حالانکہ ایل بلاک میں اقلیتی بہبود کے دفاتر کیلئے موزوں جگہ فراہم نہیں کی گئی۔ ملازمین کا کہنا ہے کہ انتہائی کم جگہ میں انہیں دفاتر قائم کرنے پر مجبور کیا جارہا ہے جبکہ وہ اس جگہ میں فائیلس کی الماریاں اور کمپیوٹرس نصب نہیں کرسکتے۔ اعلیٰ عہدیداروں کے الاٹمنٹ میں تاخیر کے سبب دونوں ریاستوں کے اقلیتی بہبود کے کئی عہدے ابھی تک مخلوعہ ہیں۔ آندھراپردیش ریاست میں مستقل سکریٹری اقلیتی بہبود کا ابھی تک تقرر نہیں کیا گیا اور تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے سید عمر جلیل عبوری طور پر آندھرا پردیش میں اس عہدہ کی ذمہ داری سنبھالے ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ دونوں ریاستوں میں کمشنر اقلیتی بہبود کے عہدہ پر تقرر باقی ہے۔ وقف بورڈ اور دیگر اداروں کی تقسیم کے بعد ان اداروں پر تقررات کیلئے اقلیتی طبقہ سے تعلق رکھنے والے اعلیٰ عہدیداروں کی کمی کا دونوں حکومتوں کو سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔