تلنگانہ حکومت کو کوئی نقصان نہیں، وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ کی ٹی آر ایس ایم پیز سے وضاحت
حیدرآباد۔/21اگسٹ، ( سیاست نیوز) مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے ٹی آر ایس ارکان پارلیمنٹ پر واضح کردیا کہ آندھرا پردیش تنظیم جدید قانون 2014 کے تحت گورنر کو اختیارات حاصل رہیں گے۔ ٹی آر ایس کے ارکان پارلیمنٹ نے آج نئی دہلی میں مرکزی وزیر داخلہ سے ملاقات کرتے ہوئے گورنر ای ایس ایل نرسمہن کو حیدرآباد کے لاء اینڈ آرڈر کے سلسلہ میں زائد اختیارات کی تجویز کی مخالفت کی۔ بتایا جاتا ہے کہ مرکزی وزیر داخلہ نے ارکان پارلیمنٹ سے کہا کہ گورنر کو ریاست کی تقسیم کے قانون کے تحت جو اختیارات دیئے گئے ہیں وہی برقرار رہیں گے۔ ارکان پارلیمنٹ نے قانون تقسیم آندھرا پردیش کی دفعہ 8کے تحت گورنر کو دیئے گئے اختیارات کے سلسلہ میں اپنے اعتراضات پیش کئے۔ انہوں نے کہا کہ دفعہ 8 میں گورنر کو جو اختیارات دیئے گئے ہیں اس پر ٹی آر ایس کو کوئی اعتراض نہیں تاہم اس کے علاوہ زائد اختیارات کی فراہمی کے وہ مخالف ہیں۔ ٹی آر ایس ارکان پارلیمنٹ نے لاء اینڈ آرڈر کے مسئلہ پر گورنر کو آزادانہ فیصلوں کا اختیار دیئے جانے سے متعلق تجویز کی سختی سے مخالفت کی۔ ارکان پارلیمنٹ کی سماعت کے بعد مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ تقسیم آندھرا پردیش قانون میں گورنر کو جن اختیارات کا ذکر کیا گیا ہے وہی اختیارات برقرار ہیں اور ان میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔ چیف منسٹر کو جو اختیارات ہیں وہی برقرار رہیں گے ان میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ صرف غیر معمولی اور ہنگامی صورتحال میں گورنر کو اختیارات کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اسی لحاظ سے مرکز نے گورنر کو اختیارات دیئے ہیں۔ وزیر داخلہ نے واضح کیا کہ مرکز کے اس فیصلہ سے تلنگانہ حکومت کو کوئی نقصان نہیں ہوگا اور اس کے اختیارات میں مداخلت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ راجناتھ سنگھ نے واضح کیا کہ مرکزی وزارت داخلہ صورتحال سے متعلق وقفہ وقفہ سے فیصلوں کا اختیار رکھتی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ راجناتھ سنگھ نے ٹی آر ایس ارکان پارلیمنٹ کو تیقن دیا کہ نئی ریاست تلنگانہ کی ترقی کیلئے مرکز ہر ممکن تعاون کرے گا۔رکن راجیہ سبھا ڈاکٹر کے کیشور اؤ کی قیادت میں ٹی آر ایس کے آٹھ ارکان پارلیمنٹ نے راجناتھ سنگھ سے ملاقات کی جن میں کے کویتا، جتیندر ریڈی، ونود کمار، بی سمن، وشویشور ریڈی، بی وی پاٹل، نگیش شامل تھے۔ارکان پارلیمنٹ نے گورنر کو اختیارات کے مسئلہ پر حکومت کے اعتراضات پر مبنی ایک یادداشت راجناتھ سنگھ کے حوالے کی۔انہوں نے مشترکہ دارالحکومت حیدرآباد میں گورنر کو لاء اینڈ آرڈر کے مسئلہ پر اختیارات کے سلسلہ میں مرکزی وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کردہ 12رہنمایانہ خطوط کی مخالفت کی۔ مرکز نے تلنگانہ حکومت کو ان رہنمایانہ خطوط سے حال ہی میں واقف کرایا تھا۔ ارکان پارلیمنٹ نے کہا کہ گورنر کو زائد اختیارات کا مطلب ریاست کے اختیارات کو کم کرنا ہے اور لاء اینڈ آرڈر کے مسئلہ پر مرکزی حکومت کی مداخلت ریاستوں کو حاصل دستوری اختیارات کے مغائر ہے۔ بعد میں اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ڈاکٹر کیشو راؤ نے کہا کہ مرکزی حکومت ایسا کوئی قدم نہیں اٹھا سکتی جو دستور کے خلاف ہو۔ انہوں نے کہا کہ تقسیم آندھرا پردیش قانون کی دفعہ 8کے تحت ریاست کے اختیارات گورنر کو تفویض نہیں کئے جاسکتے۔ مرکزی حکومت کو چاہیئے کہ وہ دونوں ریاستوں کے ساتھ یکساں سلوک کرے۔